بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ایکشن پلان تیار

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اوربین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے بنائی گئی بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں جس کے تحت ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے’ پالیسی کا مقصد اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آ زادی کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ بین المذاہب ڈائیلاگ اور کانفرنسوں کے ذ ریعے برداشت کو فروغدیا جا ئے۔انتظامی اور قانونی اقدامات کے ذریعے اقلیتوں کو قومی دھارے میں لایا جائے۔میڈیا میں آگہی مہم کے ذریعے اقلیتوں کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کا توڑ کیا جا ئے گا۔ اس پالیسی کی منظوری وفاقی کا بینہ نے رواں ہفتے دی تھی۔ وزارت مذہبی امور وبین المذ اہب ہم آہنگی کے ذرائع نے بتایا کہ بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی کا با قاعدہ عمل درآ مد پلان تیار کیا گیا ہے۔پالیسی کے تحت قومی کمیشن برائے اقلیتیں قومی اور صو بائی قوانین اور پالیسیوں کو ریویو ( از سر نو جائزہ ) کرے گا۔ کمیشن ہم آہنگی کے منصوبے تیار کرے گا۔ ضلعی سطح پرکمپلینٹ سیل قائم کئے جائیں گے۔ اقلیتوں کے خلاف تشددکا ڈیٹا بیس بنایا جا ئے گا۔ ٹال فری نمبر دیا جا ئے گا۔ایس ایم ایس الرٹ اور ویب ایو یلو ایشن سیل بنایا جا ئے گا۔کمیشن (NCM)اقلیتوں کو تشدد سیبچانے کیلئے وزارتوں اور صو بائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ اقلیتوں کو سکالر شپس مالی امداد پانچ فی صد ملازمت کا کوٹہ دیا جا ئے گا۔ سلیبس میں بین المذاہب ہم آ ہنگی کے اسباق شامل کئے جا ئیں گے۔ نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کیلئے علما ومشائخ کی مدد لی جا ئے گی۔بین لمذاہب مفاہمت کے فروغ کیلئے مذہبی فیسٹول کانفرنس اور سیمینار منعقد کرائے جا ئیں گے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئیمیڈیا مہم چلائی جا ئیں گی۔ مذہبی برداشت کی حکمت عملی کیلئے الگ عمل درآ مد پلان تیار کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں