نئے CPOاورRPOکی تعیناتی کے باوجود پولیس وارداتوں میں قابو پانے میں ناکام

فیصل آباد(آن لائن) پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں ڈکیتی، چوری، راہزنی اور لوٹ مار سمیت دیگر سنگین جرائم کی وارداتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ،پولیس بڑھتی ہوئی وارداتوں کو کنٹرول کرنے اور شہریوں کی قیمتی جان و مال کو تحفظ کی فراہم کر نے میں بری طرح ناکام،نئے سی پی او اور آرپی اوتبدیل ہونے کے باوجود وارداتوں کوکنٹرول کرنے میں پولیس ا حکام اقدامات اٹھانے میں مبینہ طور پر غیر سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں، نئے سی پی اور آر پی او کی تعیناتی کے بعد تھانہ جات میں ایک بار پھر کرپٹ ایچ ایس اوز کی تعیناتی کا عمل شروع ہوگیاہے،ڈولفن فورس کے اہلکار بھی سنگین جرائم کی وارداتوں کنٹرول کرنے کیلئے گشت کرنے کی بجائے مختلف مقامات پر رات کو آرام کی نیندسونے لگی، پولیس کا ادارہ کرپشن کا گڑھ،شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجا ب سے صاف ستھر اپنجاب اور تجاوزات کے خلاف مہم کی طرح پولیس اصلاحات اور جامعہ لائحہ عمل درآمد کا مطالبہ کردیا ۔ آن لائن کے مطابق شہراور گردونواح میں روزانہ کی بنیاد پر200 سے 250سے زائد وارداتوں میں شہریوں کو نقدی، موبائلز، زیورات، موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور دیگر قیمتی سامان سے محروم کر دیا جاتاہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈکیتی، چوری، راہزنی اور دیگر سنگین جرائم کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ جس کی وجہ سے شہریوں کا گھروں سے باہر نکلنا بھی محال ہے۔ پولیس کی جانب سے اقدامات ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔ 2025 کے پہلے ماہ میں مبینہ طور پر 5افراد کو مسلح ڈاکوں کی جانب سے مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے قتل اور 12سے زائد افراد کو زخمی کرنے کے واقعات ہو چکے ہیں۔ وارداتوں میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے اور ان کے چہرے واضح ہونے کے باوجود بھی پولیس ان جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری میں مبینہ طور پر ناکامی کا شکار بنی دکھائی دیتی ہے۔ پولیس شہر بھر کی ناکہ بندیوں کے باوجود سماج دشمن عناصر کا سراغ نہ لگا سکی،شہریوں کا کہناہے کہ پولیس کا شعبہ ایک کرپشن کا ادارہ بن چکا ہے یہاں پر کوئی شریف شہر ی ایک شکایت درج کروانے سے ڈرتا ہے کیونکہ آج بھی پولیس سفارش کے ساتھ نذرانہ وصول کئے بغیر کام نہیں کرتی اگر کسی کا مقدمہ درج ہو جائے تو تفتیش شعبہ مدعی سے نذرانے اور ملزمان گرفتاری،نشاندہی کا مطالبہ کرتے ہیں چند روزے بعد شکایت ازخود داخل دفتر یا ختم ہی کردی جاتی ہے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجا ب مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے مطالبہ کیا ہے کہ صاف ستھر پنجاب اور تجاوزات کے خلاف مہم کی طرح پولیس پنجاب میں اصلاحات اور جامعہ لائحہ عمل درآمد ہونا چاہیے تاکہ عوام میں پا یا جانے والا خوف و ہراس ختم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں