ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ضروری ہے

فیصل آباد( سٹاف رپورٹر) ملکی معیشت کی بحالی کیلئے نجی شعبہ کو کلیدی کردار ادا کرناہوگا اور یہی وجہ ہے کہ بجٹ کی تیاری سے قبل انہوں نے خود بزنس کمیونٹی سے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ مئی جون میں بجٹ کے باضابطہ اعلان سے پہلے ہر معاملے پر کھل کے بات چیت ہو سکے۔یہ بات وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ملک بھر کے چیمبرز کے صدور اور تاجر لیڈروں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان آئی ایم ایف فنڈ کے تحت کام کر رہا ہے اس لئے ہم بہت سی خبروں سے اختلاف اور اتفاق بھی کر سکتے ہیں مگر حکومت کی سمت درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مختلف چیمبرز کے دورے کر چکے ہیں جبکہ آج فیصل آباد چیمبر کے عہدیداروں سے ملاقات ہو رہی ہے۔ اسی طرح وہ خود دوسرے چیمبرز کے پاس بھی جائیں گے تاکہ مئی جون میں جب بجٹ پیش ہو تو اس میں کوئی غیر متوقع معاملات شامل نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 10-9فیصد ہے جس پر ملک کو چلایا نہیں جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ زراعت، ریٹیل اور دوسرے کئی شعبے ملکی معیشت میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ زرعی ٹیکس کا نفاذ کیا جارہا ہے۔ اس وقت تنخواہ دار طبقہ اور مینو فیکچرنگ کے شعبوں پر ٹیکسوں کا سب سے زیادہ بوجھ ہے۔ اس نظام کو منصفانہ اور پائیدار بنانے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ممبر انکم ٹیکس اور ممبر کسٹم بھی اُن کے ہمراہ ہیں تاکہ آپ لوگوں کی گفتگو اور سفارشات کی روشنی میں مناسب حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ اس سے قبل چیمبر کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں چل پڑی ہے تاہم اس کو بار بار ترقی اور پھر زوال کے چکر میں پھنسنے سے بچا کر مستقل اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا نا ضروری ہے۔ صدر نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری اپنی 50سالہ گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر آل پاکستان چیمبرز صدور کانفرنس کی میزبانی بھی کر رہا ہے تاکہ ملکی معیشت کی بحالی کیلئے بزنس کمیونٹی میں اعتماد و اتفاق کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ سینیٹرمحمد اورنگزیب پہلے وزیر خزانہ ہیں جو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹر ی میں تشریف لائے ۔ انہوں نے بتایا کہ آج تاریخی موقع ہے کیونکہ فیصل آباد چیمبر ملک کا پہلا مکمل ڈیجیٹل چیمبر بن گیا ہے اس سلسلہ میں ایس ایم ایس ایپ متعارف کر ا دی گئی ہے جس کے ذریعے چیمبر کے ممبر تمام سہولتیں آن لائن حاصل کر سکیں گے۔ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے انہوں نے حقیقی سٹیک ہولڈرز سے مشاور ت کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ پالیسی ریٹ، افراط زر میں کمی اور برآمدات میں واضح بہتری نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبہ میں برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے مگر اس مقصد کیلئے حکومت کو نوجوانوں کو سافٹ وئیر کی برآمد کا سرمایہ جائز چینل سے ملک میں لانے کی سہولت فراہم کرنا ہو گی۔ اس سے قبل فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری کے نائب صدر ثاقب مگوں، محترمہ قراة العین ، جاوید بلوانی اور دیگر چیمبرز کے عہدیداروں نے بھی خطاب کیا اور معیشت سے متعلقہ مسائل پر کھل کے اظہار خیال کیا۔ آخر میں سابق صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری میاں محمد ادریس، سابق صدر چیمبر میاں جاوید اقبال اور دیگر سرکردہ تاجر راہنمائوں نے بھی خطاب کیا جبکہ آخر میں صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹرمحمد اورنگزیب ، ثاقب مگوں اور محترمہ قراة العین کو اعزازی شیلڈیں پیش کیں اور مہمان صدور کو گفٹ دیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں