38 برس میں کئی مذہبی رہنما قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے

لاہور(بیوروچیف) معروف عالمِ دین، مولانا حامد الحق حقانی، ان متعدد پاکستانی مذہبی رہنمائوں میں شامل ہیں، جو گزشتہ 38برسوں کے دوران قاتلانہ حملوں میں جاں بحق ہوئے، قاتلانہ حملوں کا شکار بننے والوں میں مولانا سمیع الحق ، علامہ احسان الہی ظہیر ، اعظم طارق، مفتی نظام الدین شامزئی ، مولانا سرفراز احمد نعیمی، علامہ حسن ترابی،علامہ ناصر عباس اور دیگر شامل ہیں۔ حامد الحق، جو 2002 میں نوشہرہ سے منتخب ایم این اے تھے اور جمعیت علمائے اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ تھے، کو جمعہ کے روز ان کے طالبان نواز مدرسے، دارالعلوم حقانیہ کی مسجد میں نشانہ بنایا گیا۔ وہ مولانا سمیع الحق کے فرزند تھے، جنہیں “طالبان کا روحانی باپ” کہا جاتا تھا ، وہ پہلے پولیو ویکسینیشن مہم کے مخالف تھے لیکن بعد میں اس کی حمایت کی تھی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس مہم کے ذریعے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو مارنے کی سازش کی گئی تھی۔ سمیع الحق کو نومبر 2018 میں راولپنڈی میں چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ 38برسوں میں کئی دیگر ممتاز مذہبی رہنما بھی قتل کیے گئے۔ جنوری 2024 میں مسعود الرحمن عثمانی، جو سنی علما کونسل کے نائب سیکرٹری تھے، اسلام آباد میں گولی مار کر قتل کر دیے گئے۔ یہ تنظیم سپاہِ صحابہ پر پابندی کے بعد وجود میں آئی تھی۔ دسمبر 2023 میں تحریکِ نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما علامہ ناصر عباس کو لاہور میں جان لیوا حملے میں قتل کر دیا گیا۔ اکتوبر 2020 میں کراچی کے جامعہ فاروقیہ کے سربراہ مولانا ڈاکٹر عادل خان کو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے قتل کر دیا۔ وہ معروف عالمِ دین، مرحوم مولانا سلیم اللہ خان کے فرزند تھے، جنہوں نے کراچی کے مشہور جامعہ فاروقیہ کی بنیاد رکھی تھی۔فروری 2014میں معروف عالم علامہ تقی ہادی نقوی کو کراچی میںشہید کر دیا گیا۔ دسمبر 2013میں لاہور کے راوی روڈ پر فائرنگ کے واقعے میں ایک اور مذہبی رہنما، مولانا شمس الرحمان کو قتل کر دیا گیا۔ جنوری 2013میں چنیوٹ میں ملک مختار حسین کو امام بارگاہ میں گولی مار دی گئی۔ نومبر 2012میں کوئٹہ میں معروف مذہبی رہنما، آغا آفتاب حیدر جعفری کو گولی مار دی گئی۔ جنوری 2012میں ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم، انصار الاسلام کے کمانڈر، حاجی اخونزادہ کو پشاور میں ان کے گھر کے باہر خودکش حملے میں قتل کر دیا گیا۔ اسی سال جنوری میں “پاسبانِ جعفریہ” کے رہنما، عسکری رضا کو کراچی میں سالِ نو کے موقع پرقتل کر دیا گیا۔ جون 2009 میں ممتاز عالم، مولانا سرفراز احمد نعیمی کو لاہور میں ان کے جامعہ نعیمیہ مدرسے میں خودکش حملے میں شہید کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں