منشیات کیس ،SHOسمن آباد دو ساتھیوں کی عدم گرفتاری نے معاملہ مشکل بنا دیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سی پی او صاحبزادہ بلال عمر کی ہدایت پر منشیات برآمد ہونے پر ایس ایچ او تھانہ سمن آباد سب انسپکٹر امتیاز جپہ اور دیگر ساتھیوں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس خاموش’ سابق ایس ایچ او کی گرفتاری کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں، سوشل میڈیا پر ایس ایچ او سمن آباد امتیاز جپہ کے خلاف مختلف تبصرے ہونے لگے، پولیس کا ایک گروپ امتیاز جپہ کی حمایت میں میدان میں آ گیا جبکہ ضلعی پولیس کی طرف سے پراسرار خاموشی کے باعث کئی شکوک وشبہات جنم لینے لگے، شہریوں کا پولیس افسران سے اصل حقائق کو جلد سامنے لانے کا مطالبہ۔ تفصیل کے مطابق ایس ایچ او تھانہ سمن آباد سب انسپکٹر امتیاز جپہ کے کمرہ میں بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہونے پر سی پی او صاحبزادہ بلال عمر نے نوٹس لیتے ہوئے تھانہ فیکٹری ایریا میں ایس ایچ او تھانہ سمن آباد سب انسپکٹر امتیاز جپہ’ انکے ساتھیوں سب انسپکٹر طیب محمود’ کانسٹیبل شوکت اور پرائیویٹ ڈرائیور محمد اختر کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کو معطل کر دیا۔ جبکہ ایس ایچ او تھانہ سمن آباد امتیاز جپہ اور اس کے ساتھیوں کی فراری کو مزید مشکوک بنا دیا ہے کہ وہ منشیات برآمدگی کے بارے میں اپنا موقف پیش نہ کر سکے۔ سی پی او کی طرف سے ایس ایچ او اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے سپیشل ٹیمیں تشکیل دے دیں تاہم ابھی تک اس کی گرفتاری عمل میں آئی یا نہیں۔ پولیس افسران خاموش ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر امتیاز جپہ کی گرفتاری کی خبریں گردش کرنے لگیں اور سوشل میڈیا پر ایس ایچ او کے کمرہ میں بھاری مقدار میں منشیات برآمدگی پر مختلف تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ ایک گروپ امتیاز جپہ کے خلاف اور دوسرا گروپ اسکی حمایت میں باتیں کر رہا ہے۔ جبکہ پولیس افسران کی طرف سے پراسرار خاموشی کیس کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ پولیس افسران کو چاہیے کہ وہ جلد انکوائری مکمل کر کے اصل حقائق سامنے لائیں۔ اس حوالے سے ضلعی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سابق ایس ایچ او تھانہ سمن آباد امتیاز جپہ سمیت کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ انکوائری کے بعد ہی اصل حقائق سامنے لائیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایس ایچ او کے کمرہ سے منشیات برآمد ہوئیں جس پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں