سگریٹ سازی کے شعبے میں ٹیکس چوری کا انکشاف

اسلام آباد (بیوروچیف) سگریٹ سازی کے شعبے میں ٹیکس چوری اور سمگل شدہ سگریٹ کی فروخت سے ملکی محصولات کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے حکومت کو چاہیے کہ سمگلنگ اور غیر رجسٹرڈ سگریٹس کے خلاف بھرپور اقدامات اٹھائے اورآنے والے بجٹ میں اس اہم شعبے پر ٹیکس میں اضافہ نہ کیا جائے ان خیالات کا اظہار معروف ماہر معاشیات ثاقب شیرانی نے کیا انہوں نے کہا کہ غیر پائیدار ٹیکس نظام کی وجہ سے پاکستان کی معیشت اربوں روپے سے زائد خسارے کا شکار ہے جس نے نادانستہ طور پر سگریٹ کے شعبے میں غیر قانونی تجارت کو ترغیب دی ہے انہوں نے کہاکہ ایک ایسا بحران جو نہ صرف ٹیکس محصولات کو خطرہ بناتا ہے بلکہ ریاست کی رٹ کو بھی چیلنج کرتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے سی ٹی الائنس پاکستان کی جانب سے پاکستان کے ٹوبیکو سیکٹر کے لیے بہترین ٹیکس نظام کے عنوان سے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کیا رپورٹ میں کہا گیا کہ مختلف غیر قانونی اقتصادی سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ تقریبا 100 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ رپورٹ کے نتائج نے سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کے تیزی سے پھیلا سے نمٹنے کے لیے مضبوط پالیسی مداخلتوں اور نفاذ کے اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیا، جو اب مارکیٹ پر حاوی ہے رپورٹ میںبتا یا گیا کہ جہاں ٹیکس کی شرح میں اضافے سے اب محصول میں اضافے کی بجائے کمی واقع ہو رہی ہے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے اورسگریٹ پر موجودہ ٹیکس پالیسی متعدد محاذوں پر ناکام ہو رہی ہے ثاقب شیرانی نے کہاکہ اس کی وجہ سے نہ صرف غیر قانونی تجارت میں توسیع کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے بلکہ اس نے مارکیٹ میں شدید بگاڑ بھی پیدا کیا ہے اورجو صنعت ٹیکس ریونیو میں 98 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے اب سکڑ رہا ہے جبکہ غیر قانونی آپریٹرز بغیر کسی جوابدہی کے پھل پھول رہے ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار، غیر قانونی سگریٹ کے حجم نے لگاتار دو سالوں میں جائز فروخت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو کل مارکیٹ کا 56 فیصد بنتا ہے انہوں نے کہاکہ قانونی برانڈز پر زیادہ قیمتوں نے صارفین کو سستے، ٹیکس چوری کے متبادل کی طرف راغب کیا ہے، جس سے حکومت کو بہت زیادہ مطلوبہ محصول سے محروم کر دیا گیا ہے اے سی ٹی الائنس پاکستان کے قومی کنوینر مبشر اکرم نے کہاغیر قانونی سگریٹ کی بے لگام ترقی صرف ٹیکس کی آمدنی میں کمی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک معاشی ایمرجنسی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت کو اب پورے ملک میں ٹیکس قوانین کے نفاذ اور نفاذ کو یقینی بنانا چاہی رپورٹ میں پاکستان کے تمباکو پر ٹیکس لگانے کے نظام کا تجزیہ کیا گیا ہے، جس میں ان نااہلیوں کو اجاگر کیا گیا ہے جن کی وجہ سے سگریٹ کی غیر قانونی فروخت، آمدنی میں ہونے والے نقصانات اور صحت عامہ کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال درمیانی مدت میں ایک متوازن ٹیکس نظام کی دلیل دیتا ہے جو زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگانے کی وجہ سے مارکیٹ کی بگاڑ کو دور کرتے ہوئے حکومت کی آمدنی کو بڑھاتاس ہے۔مبشر اکرم نے کہا کہ جمود برقرار رکھنے سے قانونی کاروباروں کا بوجھ بڑھ گیا ہے جب کہ غیر قانونی کاروبار کرنے والے پروان چڑھے ہیں۔ تاہم اگر حقیقی اصلاحات نافذ کی جائیں، ایکسائز کو معقول بنایا جائے اور غیر قانونی کاروباروں کو نیٹ میں لانے کے لیے سختی سے عمل درآمد کیا جائے تو پاکستان معاشی طور پر محفوظ بننے کے لیے ترقی کر سکتا ہے۔رپورٹ میں نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے اہم پالیسی سفارشات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں ٹیکس چوری کرنے والے سگریٹ برانڈز کے خلاف اقدامات اورٹریک اینڈ ٹریس کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانا، اور قانونی طور پر تعمیل کرنے والے کاروباروں پر شکاری ٹیکس میں اضافے کو روکناپاکستان کی موجودہ تمباکو پر ٹیکس لگانے کی حکمت عملی غیر موثر ہے، جس کے نتیجے میں رسمی شعبے کی فروخت میں کمی، غیر قانونی تجارت میں اضافہ، اور بڑے پیمانے پر محصولات کا نقصان ہوا ہے۔ اے سی ٹی الائنس پاکستان نے حکومت، ریگولیٹری اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور اقدامات اٹھائیں۔ مبشر اکرم نے کہا کہ ملک کی مالیاتی سلامتی، سرمایہ کاروں کا اعتماد، اور معاشی خودمختاری کا انحصار غیر قانونی معیشت کو ختم کرنے اور سب کے لیے ایک منصفانہ، شفاف نظام کو یقینی بنانے پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں