3ماہ کے بقایات جات نہ مل سکے،پنشنرز کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے

جڑانوالہ(نامہ نگار) 3ماہ کے بقایا جات کی ادائیگیاں نہ ہونے پر پنشنرز کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پر گئے،بقایا جات کی ادائیگیاں نہ ہونے پر عید کی خوشیاں بھی ماند پڑنے کا بھی خدشہ،کریانہ شاپ مالکان نے ادھار سودا سلف دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ پنشنرزکا حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق میونسپل کمیٹی کی جانب سے 3ماہ کے بقایا جات کی ادائیگیاں نہ ہونے پنشنرزکے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں بقایا جات کی ادائیگیاں نہ ہونے پر پنشنرزکو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سحری اور افطاری کے اوقات میں بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کریانہ شاپس مالکان نے بھی آدھار سودا سلف دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ پنشنرزکا کہنا ہے کہ پنشن کی مد میں ملنے والی رقم سے وہ گزر بسر کرتے ہیں مگر 3ماہ کے بقایا جات کی ادائیگیاں نہ ہونے سے انکی مشکلات میں مزید اضافہ ہو چکا ہے ایک طرف کریانہ شاپس دکانداروں نے بھی بقایا ادھار کی رقم ادا نہ ہونے پر انہیں سودا سلف دینے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب بیماریوں کا شکار درجنوں پنشنرزادویات لینے سے بھی قاصر ہیں جبکہ وہ گھروں میں بجلی و گیس کے بلوں کی بھی ادائیگی نہیں کر پا رہے ہیں جسکے باعث انکے کے گھروں سے بجلی و گیس کے کنکشن بھی کٹ جانے کا خدشہ لاحق ہو چکا ہے ایسی گھمبیر صورتحال نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پنشنرزکا کہنا ہے کہ عیدالفطر کی آمد بھی قریب ہے مگر اسکے باوجود انہیں 3ماہ کے بقایا جات کی ادائیگیاں نہ شروع ہو سکی ہے جسکے باعث انہیں جس ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ پنشنرز نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر، ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ 3ماہ کے بقایا جات کی ادائیگیوں کی فراہمی فوری طور پر یقینی بنائی جائے تاکہ وہ بھی حقیقی معنوں میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی برکات اور عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں