سیاسی و عسکری قیادت کا دہشتگردی کو 3ماہ میں قصہ پارینہ بنانے کا عزم

اسلام آباد (بیوروچیف) قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ،دہشتگردی کو3ماہ میں قصہ پارینہ بنانے کا عزم ،شرکا کا پاکستا ن سے شہرت کمانیاور دشمنوں سے ساز باز کرنیپر اظہار تاسف ،مولانا فضل الرحمن کے دبنگ موقف پر شرکا کا خراج تحسین ،6گھنٹے کی بریفنگ آرمی چیف نوٹس لیتے رہے ،کل جماعتی کانفرنس کی تجویز تر ک ،صورتحال پر بحث دونوں ایوانوں میں جاری رہے گی،نواز شریف اورمحسن نقوی کی عدم شرکت کو محسوس کیا گیا ،اجلاس کی اندرونی کہانی ۔ملک کے بعض حصوں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں پر قابو پانے اور انہیں تلف کرنے کے لئے فوری طور پرپوری قوت سے انسدادی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے فوجی ماہرین نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کی تازہ لہر اور کارروائیوں کو بارہ ہفتوں میں مکمل طور پر انجام تک پہنچادیاجائے گا نئے واقعات کے تناظر میں جو حکمت عملی مرتب کی گئی ہے اس کے نتائج بلاتاخیر ظاہر بھی ہونے لگے ہیں جنگ/دی نیوز کو پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سے پتا چلا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ دھشت گردوں اور دھشت گردی کا تین ماہ میں اس طور پر صفایا کیا جائے گا کہ وہ قصہ پارینہ بن جائیں گے ذرائع کے مطابق اجلاس کے ارکان نے اس امر پر تعجب اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے نام سے شہرت پانے والوں اور قوم کے احسانات سے ہرطرح کیآرام و آسائش حاصل کرنے والوں نے ایسے معاملے پر قوم اور ملک کے یکجہتی ظاہر کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے جس سے ملک کا روشن مستقبل جڑا ہے یہی نہیں یہ لوگ ان عناصر کی پشت پناہی بھی کررہے ہیں جو ملک کی سلامتی اور وقارکے درپے ہیں۔اجلاس میں حزب اختلاف کے سربرآوردہ رہنما اور جمیعت العمائے اسلام کیسربراہ مولانا فضل الرحمان کی موجودگی اور ان کے خیالات کو فراخدلانہ سراہا گیا جنہوں نے قومی تقاضوں سے ہم آہنگ موقف اختیار کیا انکا کہنا تھا کہ ہر شخص کی اولین ترجیح پاکستان رہنا چاہئے ملک کے مفاد سیمتصادم کوئی بات گوارا نہیں کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے اپنے رہنما اور جمیعت کے تحفظات سے بھی آگاہ کیا جو قومی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں تاہم واضح کیا کہ ان معاملات کو ملکی مفادات اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے سامنے ثانوی حیثیت رہنا چاہئے ملکی معاملات کے ضمن میں مولانا فضل الرحمان نے اپنا نقطہ نگاہ کسی بھی لگی لپٹی کے بغیر پیش کیا ۔ قومی سلامتی کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ افغانستان سے دھشت گردوں کو حیلے بہانوں سے پاکستان لانے اور انہیں یہاں بسانے کہ ذمہ دار افرادکو کسی رو رعایت کے بغیر سزا کا ملنا ملک کے مستقبل اور ایسی وارداتوں کے اعادے کی روک تھام کیلئے از بس لازم ہے فوج نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنی صفوں میں موجود اس کیذمہ دار کو کورٹ مارشل کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جب کہ اس سے ساز باز افراد کو اس ناقابل معافی جرم کی پاداش میں تاحال کٹہرے میں نہیں لایا جاسکا یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس سے ملک کی دشمنی میں حدوں کو پامال کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بری فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے چھ گھنٹے کے لگ بھگ جاری رہنے والی بریفنگ اور شرکا کی رائے زنی کو بڑے سکون کے ساتھ سنا اور پورا وقت چاک و چوبند رہے وہ اس دوران گاہے گاہے نوٹس بھی لیتے رہے دھشت گردی کے مقابلے کیلئے وہ پرعزم دکھائی دے رہے تھے انکے چہرے سے قومی مسائل کے حوالے سے فکر مندی جھلک رہی تھی فوج کے پابند صوم صلو سربراہ اپنے فرائض کی انجام دہی کیساتھ اس مبارک مہینے کے فیوض و برکات بھی سمیٹ رہیہیں ۔ انکے ساتھ ساتھ فوج کے اعلی حکام بھی مستعد دکھائی دے رہے تھے ذرائع نے خیال ظاہر کیا ہے کہ صورت حال کی بہتری اور دھشت گردی کی وبا پر قابو پانے کے لئے پیش رفت کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوتارہے گا جس میں پوری صورتحال کا لگاتار جائزہ لیا جائے گا اجلاس میں جامع بریفنگ اور عوام کے نمائندوں کی طرف سیحاشیہ آرائی سامنے آنے کے بعد کل جماعتی کانفرنس کی تجویز ترک کردی گئی ہے حکومت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے الگ الگ جاری اجلاس میں دھشت گردی کا قلع قمع کے لئے انسدادی کارروائیوں پر بحث و تمحیض کی حوصلہ افزائی کرے گی اور اس کا سلسلہ جاری رہے گا اس دوران معلوم ہوا ہے کہ آج (بدھ) ان ایوانوں میں حکومتی ارکان حزب اختلاف کے سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کے باوجود کمیٹی کیاجلاس کا بائیکاٹ کرنے پر ان کی گوشمالی کریں گے اس حوالے سے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ خیز مناظر جنم لے سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے نمایاں طور پر عدم موجود پارلیمانی اکابرین میں پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر سابق وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی بھی شامل تھے جن کے بارے کوئی مصدقہ اطلاع فراہم نہیں کی گئی کہ وہ کیوں عدم دستیاب تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں