فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) جعلی پولیس مقابلہ میں مار دیئے جانے کا خوف یا کچھ اور؟ پولیس مقابلہ کے سپیشلسٹ سابق ایس ایچ او تھانہ صدر انسپکٹر علی اکرام گورایہ کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کروانے والا اوورسیز پاکستانی اپنے بیان سے منحرف ہو گیا۔ تفصیل کے مطابق کینال روڈ پر فیصل ویلی کے رہائشی کینڈین شہری عامر اقبال نے چند روز قبل تھانہ اینٹی کرپشن میں ایس ایچ او تھانہ صدر انسپکٹر علی اکرام گورایہ’ اے ایس آئی رانا تنویر’ محرر اور ان کے ساتھی رانا دانش کے خلاف RIVO ڈالہ خردبرد کرنے کے الزام میں بڑی مشکل اور بھاگ دوڑ کے بعد مقدمہ درج کروایا تھا۔ جس پر سی پی او فیصل آباد صاحبزادہ بلال عمر نے ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ صدر انسپکٹر علی اکرام گورایہ کو معطل کر دیا تھا۔ تاہم اندراج مقدمہ کے 20روز بعد ہی مدعی مقدمہ اوورسیز پاکستانی نے بیان حلفی دیا کہ اس کا RIVO ڈالہ خردبرد نہ ہوا ہے اور ڈالہ علاقہ مجسٹریٹ تھانہ صدر کی طرف سے سپرداری پر اسکو موصول ہو چکا ہے اور مذکورہ مقدمہ میں گواہان پیش نہ کرنا چاہتا ہوں اگر مقدمہ خارج کر دیا جائے تو اس کو کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بڑی مشکل اور کئی ماہ کی جدوجہد کے بعد مقدمہ درج کرنے والے بعد میں پولیس کا خوف اور مبینہ طور پر پولیس مقابلہ میں پار کر دینے کے خوف یا سیاسی پریشر سمیت وہ کونسے عوامل تھے کہ اوورسیز پاکستانی کو مقدمہ سے دستبردار ہونا پڑا۔ ذرائع کے مطابق پولیس مقابلہ کے سپیشلسٹ سابق ایس ایچ او انسپکٹر علی اکرام گورایہ کے قریبی ساتھیوں نے اوورسیز پاکستانی کو مختلف پیغامات بھجوائے جس کے بعد مذکورہ شخص کو مقدمہ واپس لینے پر مجبور کر دیا۔




