پاکستان کی اسرائیل مخالف تجویز،امریکہ کی دھمکیاں

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کی یو این میں اسرائیل مخالف تجویز کو امریکا نے کمزور کیا، امریکی کانگریس کے دو سربراہوں کی جانب سے ایچ آر سی کے رکن ممالک کو حمایت پر آئی سی سی جیسے نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی ، 7سفارتکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی کا اعلان تو دو ماہ قبل کر دیا تھا لیکن امریکا اب بھی کونسل کے کام پر اثر انداز ہو رہا ہے، جس کا شکار پاکستان کی حالیہ اسرائیل مخالف تجویز بھی ہوئی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ امریکا نے 47 ممبران پر مشتمل چھ ہفتے پرمحیط سیشن میں تو غیر حاضری رکھی تاہم اس کے دباو اور سفارت کاری کا اثر معاملات پر پڑا۔ذرائع کے مطابق امریکا نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ایک سخت تجویز کو کمزور کرنے پر توجہ مرکوز کر دی، جس میں اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کارروائیوں کی تحقیقات کے لئے اقوامِ متحدہ کا ایک خودمختار، غیرجانبدار اور آزاد میکانزم (IIIM) بنانے کا کہا گیا تھا۔فلسطینی علاقوں کے حوالے سے کونسل نے ایک انکوائری کمیشن پہلے سے قائم کر رکھا ہے لیکن پاکستان کی تجویز کے تحت اضافی اختیارات کے ساتھ بین الاقوامی عدالتوں میں ممکنہ استعمال کے لیے شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ اضافی تحقیقات کا آغاز ہو سکتا تھا۔کونسل، جس کا مشن دنیا بھر میں انسانی حقوق کو فروغ دینا اور ان کا تحفظ کرنا ہے، نے پاکستان کی تجویز کا جو ورژن بدھ کو منظور کیا اس میں آئی آئی آئی ایم کی تشکیل شامل نہیں تھی۔امریکی کانگریس کے دو سربراہان کی جانب سے 31 مارچ کو بھیجی گئے ایک خط میں ایچ آر سی کے رکن ممالک کو خبردار کیا گیا کہ اگر انہوں نے اسرائیل کے خلاف مخصوص میکانزم کی حمایت کی تو انہیں بھی وہی نتائج بھگتنا ہوں گے جو آئی سی سی کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کے وارنٹ پر بھگتنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں