پاور سیکٹر سفید ہاتھی بن گیا،گردشی قرضہ میں 147ارب اضافہ

اسلام آباد (بیوروچیف) دسمبردو ہزار چوبیس کے مقابلے میں سال دو ہزارپچیس کے پہلے دو ماہ کے دوران پاورسیکٹرکیسرکلرڈیٹ میں ایک سو سینتالیس ارب روپے کے بڑے اضافے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعدپاور سیکٹر کاسرکلر ڈیٹ بڑھ کر دو ہزار پانچ سو اکتیس ارب روپے پر پہنچ گیا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹرکاسرکلرڈیٹ فروری 2025ء تک2 ہزار531ارب روپے رہا جو دسمبر2024 تک 2ہزار 384 ارب روپے تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دسمبر2024 کے مقابلے میں جنوری 2025میں پاورسیکٹرکیسرکلر ڈیٹ میں 60 ارب روپے کااضافہ ہواجس کے بعد جنوری 2025 تک پاور سیکٹر کے سرکلرڈیٹ کا حجم بڑھ کر 2ہزار 444 ارب روپے ہوگیا تھا۔دریں اثناء گردشی قرضے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے 18بڑے کمرشل بینکوں نے حکومت کو 1275ارب روپے کی قرض سہولت کی ٹرم شیٹ فراہم کر دی ہے، جس کے تحت یہ رقم سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) کو دی جائے گی۔ یہ اقدام بجلی کے شعبے کے موجودہ 2400 ارب روپے کے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ٹرم شیٹ کے مطابق بینک 617 ارب روپے کا نیا قرض 10.50 سے 11 فیصد کے مارک اپ پر فراہم کریں گے، جو KIBOR-0.90 بیسس پوائنٹس پر مبنی ہوگا۔ یہ قرض چھ سال میں بجلی کے صارفین سے ڈیبٹ سروس سرجری (DSS) کے ذریعے واپس وصول کیا جائے گا۔ صارفین اپنی بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 3.23 روپے DSS کے طور پر ادا کریں گے۔ایک بڑے بینک کے سی ای او نے بتایا کہ بلوں کی ادائیگی کے وقت DSS کی رقم براہ راست منہا (at source deduction) کی جائے گی، جس سے بینکوں کے لیے خطرات کی سطح کم ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں