دوبارہ تجاوزات پر متعدد دکانیں سیل،مقدمات کا اندراج

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ڈپٹی چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد حافظہ عظمت فردوس نے کہا ہے کہ سرکاری زمین کو غیر قانونی طور پر بلااجازت اپنے ذاتی استعمال میں لانا جرم ہے، گھنٹہ گھر اور اس کے ملحقہ بازاروں میں فٹ پاتھ بارڈر پر ایک انچ تجاوزات کی اجازت نہ دینگے۔ آٹھ بازاروں میں دوبارہ تجاوزات کرنے والوں کو جرمانہ’ متعدد دکانیں سیل اور کئی دکانداروں کے خلاف مقدمات کا اندراج بھی کروایا گیا۔ یہ بات انہوں نے کھلی کچہری کے دوران لوگوں کے مسائل حل کرتے ہوئے کہی۔ ڈپٹی چیف آفیسر عظمت فردوس نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم’ ڈویژنل کمشنر مریم خان’ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر کی سربراہی میں ضلع بھر میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ سب کا رازق ہے اور مسبب الاسباب ہے وہ پتھر کے نیچے پلنے والے کیڑے کو بھی رزق عطا کرتا ہے۔ جس کے پاس دکان ہے وہ سامان باہر دس فٹ تک لگا کر یہ لوجک دیتا ہے کہ گاہک اندر نہیں آتا تو میرے بھائی رزق کا فرشتہ آپکی دکان کے اندر بھی تو جا سکتا ہے بلکہ وہ رازق آپ کو وہاں سے عطا فرماتا ہے جہاں آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جن کے پاس دکان نہیں ہے وہ حکومت پنجاب کے سستے ریڑھی بازار میں کیبن کے لیے کمشنر آفس’ ڈپٹی کمشنر آفس یا چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے دفاتر سے رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راستے بند کر دینا یا تنگ کر دینا اسلام میں بھی ناپسندیدہ عمل ہے اور پاکستانی قانون میں بھی ہے ۔ لہٰذا سرکاری زمین کو غیر قانونی طور پر بلااجازت اپنے ذاتی استعمال میں لانا جرم ہے ۔ اور آٹھ بازاروں سمیت شہر بھر میں سرکاری فٹ پاتھ یا روڈ پر ایک انچ کی تجاوزات کرنے کی اجازت نہ ہے جو سامان آپ نے اپنی دکان کے باہر لگایا (تجاوز) کیا ہے وہ بحق سرکار ضبط کیا جا سکتا ہے۔ نیلام کیا جا سکتا ہے یا جرمانہ عائد کر کے واپس کیا جا سکتا ہے’ جرمانہ عائد کرنا صوابدیدی پاور ہے۔ سامان واپسی آپکا استحقاق نہیں۔ انہوں نے تاجروں اور شہریوں سے کہا کہ بازاروں’ مارکیٹوں’ گلی’ محلوں میں کی جانیوالی تجاوزات کو ازخود ختم کر دیں، ہیوی مشینری سے تجاوزات کو مسمار کیا گیا تو زیادہ نقصان ہو گا اور شہر بھر میں بلاامتیاز تجاوزات کیخلاف آپریشن جاری رہیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں