زہریلا دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کیخلاف کارروائی نہ ہوسکی

ٹھیکریوالہ(نامہ نگار) سدھار ،دھاندرہ میں زہریلے دھوئیں کے بادل شہریوں کے سروں پہ منڈلانے لگے ،پیمپرز ،گندے کپڑے،پلاسٹک و دیگر اشیا بطور ایندھن استعمال ہونے لگا۔ تفصیلات کے مطابق سدھار ،دھاندرہ اور گردونواح میں سائزنگ یونٹس،ڈائینگ فیکٹریو ںمیں پیمپرز ،گندے کپڑے،پلاسٹک بیگز اور دیگر اشیا بوائلر میں بطور ایندھن استعال ہونے اور اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں شام ہوتے ہی شہریوں کے سروں پر بادلوں کی طرح منڈلانے لگتا ہے جس کی وجہ سے شہری سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہور ہے ہیں محکمہ ماحولیات کے آفسران کی نا اہلی اور غفلت کے باعث بیماریوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ڈائینگ فیکٹریوں اور سائزنگ یونٹس کے مالکان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے سوشل میڈیا اور اخبارات میں خبریں لگنے کے باوجود بھی محکمہ ماحولیات ہمیشہ کی طرح غفلت کی نیند سو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ماحولیات کے آفسران منتھلیاں وصول کر کے زہریلا دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہے اور انسانی جانوں سے کھیلنے کی کھلی چھٹی ہے اور ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر اپنے اعلیٰ افسران کو سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہے شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کو فضائی آلودگی سے پاک آب و ہوا فراہم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں