انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات کا آغاز

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) کمشنرو چیئرپرسن بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد مریم خان کی ہدایت پر ایجوکیشن بورڈ فیصل آباد کے زیراہتمام امتحان انٹرمیڈیٹ پارٹ سیکنڈ و کمپوزٹ (اول) سالانہ 2025کا آغاز (آج) 29اپریل بروز منگل سے ہو گیا جس کیلئے تمام تر انتظامات مکمل اور سنٹرز کی 100گز کی حدود میں دفعہ 144بھی نافذ کر دی گئی تاکہ کوئی غیرمتعلقہ شخص سنٹرز کے اندر داخل نہ ہو سکے۔ترجمان ایجوکیشن بورڈ فیصل آباد ساجد نقوی کے مطابق امتحان میں کل 105405طلبا وطالبات شریک ہوں گے جن کیلئے جھنگ،ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ اور فیصل آباد کے اضلاع میں لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے ان کے گھروں وتعلیمی اداروں کے قریب 325امتحانی مراکزقائم کئے گئے ہیں تاکہ طلبا وطالبات کو پیپرز دینے کے سلسلہ میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس سلسلہ میں سیکرٹری و کنٹرولر امتحانات تعلیمی بورڈ فیصل آباد ڈاکٹر حبیب الرحمن کی زیرصدارت ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں امتحانات سے متعلق تمام افسران و اہلکاران شریک ہوئے اس موقع پر سیکرٹری بورڈ نے کہا کہ بوٹی مافیا کے خاتمہ اور صاف و شفاف امتحانی نظام کے انعقاد کے سلسلہ میں حکومت پنجاب محکمہ ہایئر ایجوکیشن لاہور اور کمشنر و چیئرپرسن بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد مریم خان کی ہدایات کے مطابق سخت و ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں امتحانی مراکز میں کسی غیرمتعلقہ شخص کا داخلہ تودرکنار اس کے قریب پھٹکنابھی محال ہو گا۔انہوں نے کہا کہ طلبا وطالبات کیلئے بنائے گئے امتحانی مراکز میں محکمہ تعلیم سے تعلق رکھنے والا حاضر سروس ایماندار،فرض شناس و اچھی شہرت کا حامل امتحانی عملہ متعین کیا گیا ہے تاکہ وہ ہر بچے پر یکساں نظر رکھے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ نقل کی روک تھام کیلئے بورڈ ملازمین کوبھی حساس امتحانی سنٹرز میں تعینات کرنے کی سابقہ پریکٹس کو امسال بھی جاری رکھا جائے گا کیونکہ اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ امتحان کے شفاف و شاندار انعقاد کے سلسلہ میں جن بورڈ افسران و ملازمین کو جو بھی ڈیوٹی تفویض کی جائے وہ اپنا دماغ حاضر اور آنکھیں کھلی رکھ کر اسے بہ احسن و خوبی سرانجام دے۔ اس سلسلہ میں ذرا سی بھی غفلت،کوتاہی یا سستی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ طلبا وطالبات کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ ڈاکٹر حبیب الرحمن نے کہا کہ طلبا وطالبات کے بہترین اور وسیع تر مفاد کے پیش نظر کسی ریگولر تعلیمی ادارے کے طلبا وطالبات کو ایک امتحانی مرکز میں نہیں رکھا گیا بلکہ ان اداروں کے زون بنا کر اس کے اندر آنے والے سکولوں کے بچوں کو کمپیوٹر کے ذریعے ری شفل کرکے بٹھایا گیا ہے تاکہ نقل لگانے کی حوصلہ شکنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن بورڈ سمیت ہر تحصیل سطح پر کنٹرول رومز قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں پل پل کی موصولہ رپورٹس جمع کرکے ایک جامع رپورٹ سیکرٹری ہایئر ایجوکیشن سمیت دیگر متعلقہ اعلی افسران کو پہنچائی جائے گی۔اس موقع پر سیکرٹری بورڈ نے ہدایت کی کہ امتحان کی مثر نگرانی کیلئے نیک و اچھی شہرت کے حامل موبائل انسپکٹرزسمیت سپیشل مانیٹرنگ سکواڈز بھی تعینات کئے جائیں جو کہیں سے بھی گڑ بڑ کی اطلاع ملنے پر فوری رسپانس کرکے کسی ناخوشگوار واقعہ کے جنم لینے سے قبل ہی اس کا سرکچل کر رکھ دیں۔ انہوں نے امتحانی عملہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض محنت،لگن اور دیانتداری سے سرانجام دیں اگر ان پر کوئی اثرانداز ہونے کی کوشش کرے تو وہ اس کی اطلاع فوری طور پر کنٹرول روم کو دیں تاکہ ایسے عناصر کی بیخ کنی کرکے اسے عبرت کا نشان بنا یا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں