خدمت مرکز رجسٹری برانچ کا عملہ روزانہ لاکھوں کی دیہاڑیاں لگانے لگا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) اعلیٰ افسران کی آشیرباد پر خدمت مرکز رجسٹری برانچ کا عملہ روزانہ لاکھوں کی دیہاڑیاں لگانے لگا، رجسٹری کروانے والوں سے وصول ہونے والا نذرانہ ”حصہ بقدر جثہ” تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ اعلیٰ افسران نے چپ سادھ رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق اراضی سنٹر سے رجسٹری کروانے والوں سے نذرانے اکٹھے کرنے کی شکایات پر انتظامیہ نے رجسٹری کے عملہ کو ”خدمت مرکز” شفٹ کر دیا، جہاں پر آنیوالوں کیلئے ٹوکن سسٹم متعارف کرایا گیا تاکہ آنے والے سائلین کی مشکلات ومسائل کو کم کیا جا سکے لیکن پرانا عملہ نے شہریوں کو ریلیف کی بجائے مزید تکلیف میں مبتلا کر دیا۔ پراپرٹی کی خرید وفروخت کے بعد انتقال یا رجسٹری کیلئے آنے والوں کو پہلے خدمت مرکز کے عملہ کو ٹوکن کے حصول کیلئے نذرانہ دینا پڑتا ہے اور عملہ نے مبینہ طور پر خدمت مرکز کے باہر ٹائوٹ چھوڑ رکھے ہیں اور ٹائوٹ روزانہ 3سے 5ہزار کی دیہاڑیاں لگاتا ہے اور ان کے اشارہ پر خدمت مرکز کا عملہ ٹوکن جاری کرتا ہے، ورنہ ان کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد رجسٹری برانچ کے عملہ کا کام شروع ہو جاتا ہے اور وہ رجسٹری کروانے والوں کے کاغذات میں فلاں دستاویزات نہ ہونے کا بہانہ بنا کر واپس بھیج دیتے ہیں اور وہاں پر موجود رجسٹری برانچ کا چھوٹا عملہ وٹائوٹ ان کو مٹھی گرم کرے تو ان کا کام ہو جائے گا اور نذرانہ کی رقم دینے پر تمام دستاویزات درست قرار دی جاتی ہیں اس طرح رجسٹری برانچ کا عملہ مبینہ طور پر روزانہ دو لاکھ سے زائد کی دیہاڑی لگاتا ہے اور اس میں نیچے سے لیکر اوپر تک تمام افسران کو حصہ پہنچایا جاتا ہے اور ٹائوٹ مافیا بھی ماہانہ ایک لاکھ کی دیہاڑی لگاتا ہے اور اسطرح اوپر والے سرکاری اعلیٰ افسران سمیت تمام عملہ روزانہ لاکھوں روپے کی دیہاڑی لگانے میں مصروف ہے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ خدمت مرکز کے اعلیٰ افسران نے چپ سادھ رکھی ہے۔ شہری حلقوں نے کمشنر فیصل آباد مریم خان’ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ خدمت مرکز میں ٹائوٹ مافیا کے راج کو ختم کروایا جائے اور کرپٹ عملہ کو لگام دینے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں