حضرت مولانا حافظ عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ آج سے ایک سال پہلے اس دارفانی سے انتقال کر گئے لیکن وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، انہوں نے اپنی زندگی کو دین اسلام کی خدمت کیلئے وقف کئے رکھا، مسجد قادریہ پیپلزکالونی نمبر1 میں امامت کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ آپ نے لوگوں کو اسلامی اقدار سے روشناس کروایا اور ان کے دلوں کو قرآن پاک کی روشنی سے جگمگا دیا، آپ نے بچوں اور بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا فریضہ نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیا، طالب علموں کے حفظ قرآن کے لیے بھی وہ پیش پیش رہتے تھے اور حفاظ کرام کی دستار بندی کے موقع پر خوشی سے سرشار نظر آتے، قرآن وسنت کی تعلیمات کا فروغ ان کا مشن تھا جس کے لیے وہ زندگی بھر کوشاں رہے، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بہت سارے انسان ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو کچھ خاص طریقے سے گزارا ہوتا ہے، اس وجہ سے ان کے اس جہان سے انتقال کے بعد ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے، ممتاز عالم دین حافظ محمد عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ کو ہم سے جدا ہوئے 1سال بیت گیا مگر ان کی یادیں ہمارے ساتھ ہیں اور ہم ان کو کبھی نہیں بھولیں گے، انہوں نے 55سال تک جامع مسجد قادریہ میں امامت کروائی، میں نے برسوں ان کی امامت میں نمازیں ادا کیں، ان کا نورانی چہرہ دیکھتے ہی لوگ ان کے عقیدت مند بن جاتے تھے’ مجھے خوشی ہے کہ میرا شمار بھی ان کے چاہنے والوں میں ہوتا ہے، وہ دوستوں کے دوست تھے اور تعلق کو نبھانے کا فن بخوبی جانتے تھے، انکی زندگی کے آخری لمحات تک میرے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رہے، حضرت مولانا حافظ محمد عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ نے ہمیشہ راقم کے ہر دکھ کو اپنا دکھ’ ہر پریشانی کو اپنی پریشانی اور ہر خوشی کو اپنی خوشی سمجھا، یہ دوستی مسجد سے شروع ہو کر دونوں گھروں تک پہنچی اور دوستی کے اس رشتے کو توانا رکھنے کیلئے مولانا حافظ عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ نے شاندار کردار ادا کیا، میری خوش بختی ہے کہ وہ مجھ سے مشاورت کر کے دعوت وتبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے رہے، بے شک! اﷲ عزوجل کے محبوب بندوں سے محبت وعقیدت کا تعلق قائم رکھتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنا بہت بڑی سعادت ہے، حضرت مولانا حافظ عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ نے دعوت وتبلیغ کا جو فریضہ سرانجام دیا وہ چراغ راہ کا کام دیتا رہے گا، آپ نے اپنی زندگی اﷲ تعالیٰ کی رضا کے تابع گزاری اور اتباع رسولۖ کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے رکھا، وہ حقیقی معنوں میں سچے عاشق رسولۖ تھے، عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ عظیم نعمت ہے جو جسے مل جائے اس کے مقدر پر ہر کوئی رشک کرتا نظر آتا ہے، عاشق رسولۖ کو اﷲ تعالیٰ عزوجل اور حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی رضا وخوشنودی حاصل ہوتی ہے، حضرت مولانا حافظ عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ نے مثالی زندگی گزاری، کبھی کسی معاملے میں کسی کا احسان نہیں لیا اور ہر موقع پر بڑے وقار’ جرأت’ غیرت اور ایمانداری کا مظاہرہ کیا، یونس ٹائون میں ان کے صاحبزادے حضرت مولانا عطاء المصطفیٰ جامع مسجد غوثیہ بہار مدینہ کے خطیب ہیں اور مسجد کے ساتھ ان کی ذاتی جگہ ہے جہاں پر حضرت مولانا حافظ عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ کا مزار پُرانوار ہے اور آج 29 اپریل بروز بدھ کو بعداز نماز عشاء بمقام مدرسہ قادریہ حفظ القرآن یونس ٹائون گلی نمبر5 ستیانہ روڈ فیصل آباد میں حضرت مولانا حاجی حافظ عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ کے پہلے عرس مبارک کی نورانی وجدانی تقریب انعقاد پذیر ہو گی’ بے شک! دین اسلام کی خدمت ایک عظیم سعادت اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی خصوصی توفیق ہے، یہ صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ ہر مسلمان اپنے دائرہ کار میں رہ کر اس میں حصہ لے سکتا ہے، دین اسلام کی تبلیغ واشاعت پر مامور ہونا اﷲ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے، اسلام دین رحمت ہے، خدمت خلق دین کا حصہ ہے، یتیموں’ بیوائوں اور ضرورت مندوں کی خدمت کرنا چاہیے اور یہ خدمت اس طرح کریں کہ ایک ہاتھ سے دیتے وقت دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے، یعنی رازداری اور بہترین حسن اخلاق کے ذریعے یہ نیک کام سرانجام دینا چاہیے کیونکہ اﷲ تعالیٰ صرف خالص نیت والے اعمال میں برکت ڈالتا ہے، حضرت مولانا حافظ عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ نے جو درس ہدایت دیا اس نے بے شمار لوگوں کی تقدیر سنوار دی، انہوں نے قرآن وسنت کی تعلیمات کے فروغ اور خلق خدا کی خدمت کو اپنا مشن بنائے رکھا، وہ عالم باعمل تھے، عالم دین کی بڑی شان ہے کیونکہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث اور دین کے محافظ ہیں، علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، علم دین دلوں کو ہدایت دیتا ہے اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے’ حضرت مولانا حافظ عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ کے پاس آنیوالے ہمیشہ فیضیاب ہوتے رہے، نیکوں کی محبت انسان کی باطنی اصلاح کا سب سے بڑا سبب بن جاتی ہے، جو انسان اﷲ والوں کے پاس رہیں تو ان کے اپنے دل میں بھی نور آ جاتا ہے’ معرفت آ جاتی ہے’ نگاہ ولی میں ایسی روحانی تاثیر ہوتی ہے جو انسان کی تقدیر بدلنے’ قلب وجاں کو منور کرنے اور صراط مستقیم پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، ولی اﷲ کی محبت قرب الٰہی’ دلوں کی صفائی’ تقویٰ میں اضافے اور اخلاق حسنہ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، ان کی محفل میں بیٹھنے سے باطن کی اصلاح’ گناہوں سے نفرت اور روحانی ترقی جیسے عظیم ثمرات حاصل ہوتے ہیں’ حضرت مولانا حافظ عبدالقادر رحمة اﷲ علیہ کا شمار بھی اﷲ تعالیٰ کے ایسے ہی نیک بندوں میں ہوتا ہے، آج ان کے پہلے عرس مبارک کے موقع پر ان سے وابستہ یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہیں، دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کا فیض ہمیشہ جاری وساری رہے۔




