پاکستان کی عالمی سفارتی مہم (اداریہ)

بھارتی پراپیگنڈے کے جواب میں پاکستان نے عالمی سفارتی مہم مزید تیز کر دی’ وزیر خارجہ سرگرم آج سے چین کا دورہ شروع آئندہ ہفتے ایران جائیں گے جبکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو امریکا اور یورپ کا دورہ کریں گے دونوں شخصیات اپنے دورہ کے دوران پاک بھارت جنگی صورت حال بارے عالمی راہنمائوں کو آگاہ کریں گے نئی سفارتی مہم کے ارکان کو وزیراعظم کے خصوصی نمائندے کی حیثیت حاصل ہو گی وفد کے ارکان کا چنائو غیر معمولی احتیاط سے کیا گیا ہے چار سابق وزرائے خارجہ اور ماہر سفارتکار شامل ہیں سفارتی مشنز کو وفد کی کامیابی یقینی بنانے کے لئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ایک وفد اقوام متحدہ میں بھی جائے گا، بھارتی سفارتی وفود میں پھوٹ پڑ گئی ہے روانگی سے قبل ہی تو تو میں میں شروع ہو گئی کانگریس کی سخت نکتہ چینی’ سابق وزیر خارجہ اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بھارت جارحیت سے پید اہونے والی صورتحال اور عالمی امن کیلئے سنگین خطرات کے بارے میں دنیا کے اہم دارالحکومتوں کو آگاہی دلانے کیلئے وفد آئندہ ہفتے روانہ ہو رہا ہے جس میں ملک کے چار سابق وزرائے خارجہ اور 2سابق خارجہ سیکرٹری بھی شامل ہیں وفد میں شامل ارکان ایک ہی وقت میں مختلف دارالحکومتوں میں مصروف عمل ہوں گے تاکہ کم سے کم وقت میں مطلوبہ ممالک کو صورتحال سے خبردار کیا جا سکے، سابق نگران وزیراعظم سینیٹر انوارالحق کاکڑ کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں مجوزہ دارالحکومتوں میں پاکستان کے سفارتی مشنز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ وہ اس سفارتکاری کو کامیاب بنانے کیلئے اپنی بہترین صلاحیتوں اور خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائین اور سفارتی وفود کیلئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کریں،’ موجودہ وقت میں مؤثر سفارتی حکمت عملی اپنانا پاکستان کیلئے اہم ہے کیونکہ بھارت اپنی شکست کے بعد پروپیگنڈہ مہم شروع کر چکا ہے جس کا بھرپور جواب دینا اور عالمی طور پر بھارتی پروپیگنڈے کو ناکام بنانا ضروری ہے پاکستان کی سفارت کاری کیلئے ضروری ہے کہ ہم بھی کوئی نہ کوئی کائونٹر اسٹریٹجی ضرور بتائیں اور اپنا نقطہ نظر بھرپور انداز سے سامنے لائیں اس وقت مکار اور عیار دشمن بھارت کو کوئی موقع نہیں دینا چاہیے کہ وہ پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کے خلاف نیا محاذ کھول لے سفارتی سطح پر بہت کام کی ضرورت ہے،، یہ بہت اچھی بات ہے کہ بھارتی جارحیت کے حوالے سے حکومت کی طرف سے بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے امید کی جاتی ہے کہ مختلف ملکوں میں جانے والے وفود یقینا بین الاقوامی برادری کے سامنے نہ صرف بھارت کی جارحیت اور پاکستان میں اس کی تائید وحمایت سے ہونے والی دہشت گردی کے ثبوت رکھیں گے بلکہ انہیں یہ بھی باور کرائیں گے کہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کے لیے کی جانے والی مذموم حرکتیں قیام امن کو کس طرح نقصان پہنچا رہی ہیں علاوہ ازیں اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ جب تک اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا جنوبی ایشیا پر جنگ کے سائے منڈلاتے رہیں گے اور پاکستان اور بھارت کے جوہری قوت کے حامل ہونے کی وجہ سے صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا مستقبل خطرات سے دوچار رہے گا لہٰذا بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں