ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر دنیا کو ایک ایسے خطرناک موڑ پر لے آئی ہے جہاں کسی بھی غلط فیصلے کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری عالمی سیاست اور معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں، اس صورتحال کا سب سے نمایاں اور مثبت پہلو پاکستان کی سفارتی حیثیت کا ابھرنا ہے۔ پاکستان ایک ایسے مرحلے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے جہاں معمولی سی غلطی بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔ اسی سفارتی صورت حال کے پیش نظر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی دوسری بار اہم دورے پر تہران پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے ایرانی صدر سے ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ ادھر ایرانی صدر نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ مذاکرات اور افہام وتفہیم کی اہمیت پر زور دیا۔ امریکہ معاہدے کے حتمی سودے کا اعلان جلد متوقع ہے۔ معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ اہم شخصیت کے دورے کے دوران اعلان کیا جا سکتا ہے کہ معاہدے کا حتمی مسودہ مکمل ہو گیا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور حج سیزن کے بعد اسلام آباد میں ہو گا۔ ادھر امریکی صدر نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور فوری طور اسے کھل جانا چاہیے۔ ہمیں آبنائے ہرمز کھلوانی ہے اور وہ فوری طور پر کھلنی چاہیے۔ ایران سے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ میں بس یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے لوگوں کا بھلانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ وائٹ ہائوس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال بہت جلد ختم ہو جائے گی اور امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ اس صورتحال سے تھک چکا ہے۔ ہم اس جنگ کو بہت جلد ختم کر دیں گے۔ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے لیکن ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دینگے۔ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی جس میں ایران جنگ صورتحال سے متعلق مختلف آپشنز پر غور بھی کیا گیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے جس کے بعد ہم یہ جنگ تیزی سے ختم کر دیں گے۔ ایران کو ہم کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے نہیں دینگے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کو سٹیل کی دیوار قرار دیا اور کہا کہ کوئی جہاز ایران تک نہیں پہنچ سکتا۔ اگر ایران نے معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو نئے حملوں کیلئے تیار رہے۔ علاوہ ازیں چین میں تعینات ایرانی سفیر عمیر الرضا رحمانی فضلی نے کہا کہ ثالثی عمل دراصل ایران’ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی تعاون اور سفارتی روابط کا نتیجہ ہے۔ پاکستان اور چین نے اس حوالے سے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ان کا ملک ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کیلئے قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دینے کے فیصلے کو سراہتا ہے اور ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ توقع ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک مضمرات سے بچنے کیلئے اس موقع سے استفادہ کرے گا اور ایک جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کیلئے ہونے والی کوششوں کا فوری مثبت جواب دے گا۔ اسی لئے پاکستان کی کوشش ہے کہ کشیدگی کو کم سے کم کیا جائے اور خطے میں پائیدار امن کیلئے عالمی دنیا کا شکریہ بھی ادا کیا ہے جنہوں نے اس جنگ کو روکنے کیلئے سفارتی سطح پر عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں اور سفارت کاری کو بھی موقع دیا ہے۔ دوسری طرف ایران کی بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کی کامیابی میں تعاون کرے۔ یقینی طور پر عالمی دنیا اور بالخصوص ایرانی عوام کے حق میں بھی بہتر ہو گا۔




