قبضہ گروپ کا پولیس کی مدد سے شہری کے مکان پر قبضہ،اہلخانہ پر تشدد

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) گھر پر قبضہ، بچوں سمیت خاتون کی پولیس کے خلاف پریس کانفرنس چک نمبر 197رب باگیوال کی رہائشی خاتون ثمینہ کنول زوجہ محمد بوٹا نے پولیس افسران اور بااثر افراد پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بچوں سمیت ان کے گھر سے زبردستی نکال کر مکان پر قبضہ کر لیا گیا۔ انہوں نے یہ انکشافات فیصل آباد پریس کلب میں اپنے بچوں اور اہلِ محلہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیے۔خاتون نے الزام لگایا کہ یکم جون 2025کو دن 1:30بجے کے قریب تھانہ ملت ٹائون کے ایس ایچ او مظہر عرفان کی سربراہی میں پولیس اہلکاروں اور مقامی قبضہ گروپ کے افراد پر مشتمل 30سے زائد افراد، جن میں باوردی اہلکار، لیڈی کانسٹیبلان اور پرائیویٹ افراد شامل تھے، مسلح ہو کر ان کے گھر پر دھاوا بولا۔ حملہ آوروں نے گھر کی بیرونی دیوار توڑ دی، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا، خاتون اور ان کے بچوں کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور ان کے شوہر کو سرکاری ڈالے میں ڈال کر لے گئے۔پریس کانفرنس کے دوران ثمینہ کنول نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے زبردستی ان کے گھر کا دروازہ بند کر کے تالا لگا دیا اور ایس ایچ او نے دھمکی دی کہ اگر کسی نے مزاحمت کی تو اسے جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا۔ واقعہ کی ویڈیوز اور چشم دید گواہان کے بیانات بھی بطور ثبوت موجود ہیں۔خاتون کے مطابق، ان کے پڑوسی محمد عمیر زاہد کے گھر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں پر جب پولیس کی یہ کارروائی ریکارڈ ہونے لگی تو ملزمان نے عمیر زاہد کے گھر میں گھس کر DVR، 32 انچ ایل ای ڈی سمیت دیگر اشیا چھین کر لے گئے۔ عمیر زاہد کی بہنوں، ندا زاہد اور عنتی زاہد نے جب مزاحمت کی تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کپڑے پھاڑ کر نیم برہنہ کر دیا گیا۔ زخمی خواتین کو 1122کے ذریعے الائیڈ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے میڈیکل رپورٹس بھی حاصل کی گئیں۔ثمینہ کنول کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکار عبدالغفار کا بیٹا، جو کہ بدنامِ زمانہ قبضہ گروپ چلاتا ہے، اس واقعہ کا مرکزی کردار ہے اور قبل ازیں بھی ان پر جھوٹے مقدمات کے ذریعے دبا ڈالنے کی کوشش کر چکا ہے۔ حالانکہ ان کے شوہر کے حق میں سول کورٹ سے اسٹے آرڈر بھی موجود ہے۔آخر میں خاتون نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ اگر انہیں فوری انصاف نہ ملا اور مقدمہ درج نہ کیا گیا تو وہ اہلِ محلہ، بچوں اور خواتین کے ہمراہ ضلع کونسل چوک میں بھرپور احتجاج کریں گی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے اور فوری انصاف فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں