جڑانوالہ(نامہ نگار) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ہدایت کے باوجود حلقہ پٹواریوں اور سب رجسٹرار/تحصیلدار کی مبینہ ملی بھگت سے 4ماہ بعد بھی چک نمبر 128 گ ب،61 گ ب مہارنوالہ،240 گ ب،جڑانوالہ زرعی کا ریکارڈ کمپیوٹرائز نہ ہونے پر شہری اراضی ریکارڈ سنٹر اور پٹواری دفاتر کے درمیان شٹل کاک بن گئے،مبینہ بھاری نذرانہ دینے والوں کو پچھلی تاریخوں میں فردات کی نقول فراہم کی جانے لگی،عوامی سماجی حلقوں کا وزیر اعلی پنجاب و دیگر حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی بورڈ آف ریونیو حکومت پنجاب نے صوبہ بھر کے حلقہ پٹواریوں اور تحصیلدار/سب رجسٹرار کو ہدایت جاری کی کہ اپنے اپنے حلقہ جات کا ریکارڈ کیمپوٹرائز کیا جائے تاکہ فردات کی نقول انتقالات کے حصول کیلئے آنیوالے شہریوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ ریونیو ریکارڈ میں جعل سازی اور ٹپمرنگ کے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے مگر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے احکامات کے باوجود 4 ماہ بعد بھی جڑانوالہ کے چک نمبر 128 گ ب،چک نمبر 61 گ ب مہارنوالہ،چک نمبر 240 گ ب اور جڑانوالہ زرعی کا ریکارڈ کیمپوٹرائز نہ ہو سکا ہے جس پر فردات کی نقول انتقالات کے حصول کیلئے آنیوالے شہری اراضی ریکارڈ سنٹر اور پٹواریوں کے دفاتر کے مابین شٹل کاک بن چکے ہیں جائیدادوں کی فردات کی نقول انتقالات کیلئے آنیوالے شہریوں کا کہنا ہے کہ حلقہ پٹواریوں اور تحصیلدار/سب رجسٹرار کی مبینہ ملی بھگت سے تاحال ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہ کیا جا رہا ہے جبکہ مبینہ طور پر بھاری نذرانہ دینے والوں کو پچھلی تاریخوں میں فردات کی نقول فراہم کی جا رہی ہے جبکہ نذرانہ نہ دینے والوں کو ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،بورڈ آف ریونیو پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ حلقوں کے ریکارڈ کو کیمپوٹرائز کرنے کا مرحلہ جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی ہو سکے اور ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہ کرنے میں کوتاہی کے مرتکب حلقہ پٹواریوں کیخلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔




