محرم الحرام،پنجاب پولیس کا سکیورٹی پلان فائنل

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر پنجاب پولیس نے محرم الحرام کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے سکیورٹی پلان فائنل کر لیا ہے ۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ عزاداری جلوسوں ، مجالس کی سکیورٹی کیلئے پہلے سے بہتر اور جامع سٹریٹیجی مرتب کی گئی ہے۔ عشرہ محرم الحرام کے دوران 38 ہزار سے زائد مجالس اور09 ہزار 200 سے زائد عزاداری جلوسوں کو بھرپور سکیورٹی فراہم کریں گے۔عشرہ محرم الحرام میں فیصل آبادسمیت صوبہ بھر میں 02 لاکھ 32 ہزار سے زائد افسران و اہلکار سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں 28 ہزار سے زائد افسران و اہلکار محرم سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہونگے۔مجالس سکیورٹی پر 53 ہزار سے زائد جبکہ عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی انتظامات میں 38 ہزار رضا کار (والنٹیرز) معاونت فراہم کریں گے۔سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ٹریفک پولیس، ڈولفن سکواڈ اور پیرو سمیت تمام فیلڈ فارمیشنز محرم سکیورٹی انتظامات میں ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، کمیونٹی لیڈرز محرم الحرام میں امن اور افہام و تفہیم یقینی بنائیں۔ملک دشمن عناصر کی نفاق پھیلانے اور امن متاثر کرنے کی کسی بھی مذموم کوشش کو بین المسالک ہم آہنگی سے ناکام بنائیں۔امن کمیٹیوں، مجالس و جلوسوں کے منتظمین کے ساتھ کلوز کوارڈینیشن سے تمام مسائل قبل از وقت حل کر لیں۔لاہور سمیت تمام اضلاع میں طے شدہ روٹس اور مقامات کے علاوہ کسی اور جگہ جلوس، مجالس کی اجازت نہیں ہوگی۔ دفعہ 144 اور لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔اشتعال انگیزی اور مذہبی منافرت کے خطرے کے پیشِ نظر فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ زبان بندی اور نظر بندی سمیت حکومت پنجاب کے سکیورٹی ایس او پیز پر من و عن عمل در آمد یقینی بنایا جائے گا۔حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے، میٹل ڈٹیکٹرز اور واک تھرو گیٹس استعمال کیے جائیں گے۔سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر، وال چاکنگ، بینرز، پوسٹر لگانے کے مرتکب قانون شکنوں کو حوالات میں بند کریں گے۔ ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ سی سی پی او لاہور، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز محرم سکیورٹی انتظامات کی خود نگرانی کریں گے۔تمام اضلاع میں محرم کنٹرول رومز فعال اور سنٹرل پولیس آفس کے مرکزی کنٹرول روم سے چوبیس گھنٹے رابطہ میں ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں