BISPمیں زائد کٹوتیاں،9ریٹیلرز سے ڈیوائسز واپس

جڑانوالہ (نامہ نگار) ”ڈیلی بزنس رپورٹ میں خبر کی اشاعت پر” بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم ادائیگی کے دوران مبینہ طور پر 6کروڑ سے زائد کی کٹوتیاں کرنیوالے ریٹیلرز نے اپنے بچائو کیلئے سفارشیوں کے پائوں پکڑنے شروع کر دئیے، زائد کٹوتی کرنیوالے 9ریٹیلرز سے ڈیوائسز واپس لے لی گئی،عوامی سماجی حلقوں کا وزیر اعظم پاکستان، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری،چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے اعلی سطحی خفیہ انکوائری کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق ڈیلی بزنس رپورٹ میں خبر شائع ہوئی تھی کہ جڑانوالہ میں 35ریٹیلرز نے 41ہزار مستحق افراد کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی آنے والی رقم کی ادائیگی کے دوران مبینہ طور پر فی کس 1500سے 2000ہزار روپے کی کٹوتیاں کیں اور سہ ماہی ادائیگی کے دوران ریٹیلرز شاپ مالکان نے مبینہ طور پر 6کروڑ روپے سے زائد کی کٹوتیاں کرکے مستحق افراد کو چونا لگایا اور اپنی جیبیں بھری،ڈیلی بزنس رپورٹ میں خبر کی اشاعت پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت آنے والی رقم سہ ماہی رقم سے ریٹیلرز کی جانب سے مبینہ طور پر 6کروڑ سے زائد کی کٹوتیوں بارے انکشاف سامنے آنے پر حکام بالا نے نوٹس لیتے ہوئے خفیہ طور پر انکوائری کا آغاز کر دیا ہے اور جڑانوالہ میں ریٹیلرز شاپ مالکان بارے چھان بین بھی شروع کر دی ہے کہ مزکورہ ریٹیلرز کو ڈیوائسز جاری کرتے وقت ایس او پیز کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے کہ نہیں،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ متعدد ریٹیلرز کو مبینہ طور پر سفارشیوں کے ایما پر ڈیوائسز جاری کی گئیں ہیں جن سے مبینہ طور پر بھاری نذرانہ بھی وصول کیا گیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ”ڈیلی بزنس رپورٹ” میں خبر کی اشاعت پر مبینہ کٹوتیوں میں ملوث ریٹیلرز شاپ مالکان نے اپنے بچائو کیلئے سفارشیوں کے پائوں پکڑنے شروع کر دئیے ہیں جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام دفتر حکام نے رقم کی ادائیگی کے دوران کٹوتیاں کرنیوالے 9ریٹیلرز شاپ سے ڈیوائسز واپس لے لیں ہیں۔ عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ کٹوتیوں بارے اعلیٰ سطحی خفیہ انکوائری کی جائے اور تمام ریٹیلرز شاپ مالکان سے ڈیوائسز واپس لیکر نئے سرے سے ریٹیلرز شاپ مالکان کا تعین کرکے دوبارہ ڈیوائسز جاری کی جائیں اور رقم کی ادائیگی کے عمل کو شفاف بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں