اوور بلنگ کرپشن بد انتظامی کی بد ترین شکل ہے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے راہنماسر دا ر ظفرحسین خاںنے آڈیٹرجنرل پا کستان کی آڈٹ رپورٹ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اربوں روپے کی اووربلنگ پراپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں لائن لاسزاور اپنی ناقص کارکردگی چھپانے کیلئے اور بلنگ میں ملوث ہیں، لائن لاسز اور نااہلی چھپانے کے لیے اووربلنگ کے ذریعے عوام پر 244 ارب کا بوجھ ڈالنا انتہائی شرمناک ہے، حکومت کو عوام سے لوٹی ہوئی یہ رقم واپس کرنی چاہیے اور اس کے ذمہ داران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اووربلنگ کرپشن اور بدانتظامی کی بدترین شکل ہے۔ حکمرانوں اور اداروں کی نااہلی کی سزا عوام کو مل رہی ہے۔آڈٹ رپورٹ نے مالی بے ضابطگیاں بے نقاب کردیں، اپنی نااہلی چھپانے کیلئے صارفین کی جیبوں سے اضافی پیسے نکلوانے والے کسی افسر کو سزا بھی نہ ملی۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیسکو سمیت تمام تقسیم کارکمپنیوںنے 244ارب کی اووربلنگ کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ افسوس کامقام ہے کہ کمپنیوں نے عوام کو رقم واپسی کے دعوے کی لیکن آڈٹ کے دوران اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کسی قسم کے دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیے۔تقسیم کار کمپنیوں نے صرف ایک ماہ میں 2 لاکھ 78 ہزار 649 صارفین کو 47 ارب 81 کروڑ کا اضافی بل بھیجا جبکہ لائن لاسز، بجلی چوری چھپانے کیلئے اوور بلنگ میں ملوث افسران کیخلاف کارروائی نہیں کی گئی، سال 24ـ2023 میں صارفین کو 90کروڑ 46 لاکھ بجلی یونٹس کا اضافی بل بھیجا گیا۔ لائن لاسز پورے کرنے کیلئے اضافی لوڈ کی مد میں 22 ارب کی اوور بلنگ کی گئی۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ اس بددیانتی، کرپشن، ہیرا پھیری اور لوٹ کھسوٹ کے ایک ایک ذمہ دارکو انصاف کے کٹہرے میں لائے جائے اور عوام کو لوٹی ہوئی رقوم واپس کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں