افراط زر میں کمی کیلئے پالیسی ریٹ میں کمی کی جائے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحا ن نسیم بھراڑہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ معیشت میں بہتری کے حاصل کردہ فوائد کو مستحکم بنانے، پیداواری لاگت میں کمی ، برآمدات میں مزید اضافے اور افراط زر میں کمی کیلئے پالیسی ریٹ میں واضح کمی کی جائے تاکہ پاکستانی مصنو عات دوسری اور ہم پلہ علاقائی معیشتوں کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے دیگر ملکوں میں اس وقت بھی پالیسی ریٹ بہت کم ہے جس کی وجہ سے اِن ملکوں کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اِس کے برعکس پاکستان میں زیادہ پالیسی ریٹ کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھنے سے ہماری برآمدی مصنوعات علاقائی ملکوں کا مقابلہ نہیں کر پارہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور بزنس کمیونٹی کی کوششوں سے معیشت میں بتدریج بہتری آرہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی انٹر نیشنل کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی جبکہ سٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین شرح کو چھو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود برآمدات میں اضافہ ہوا اور کرنٹ اکائونٹ گزشتہ 14سالوں میں پہلی بار فاضل رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم ہوئی جبکہ مہنگائی کی شرح میں بھی سالانہ بنیادوں پر کمی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اِن عوامل کی وجہ سے سٹیٹ بینک کو روایتی مگر غیر ضروری احتیاطوں (Prudent )کے چکر سے نکل کے آزادانہ(Liberal ) پالیسیوں کو اپنانا ہوگا تاکہ لوگوں کو سستا سرمایہ ملے اور پیداواری لاگت کو کم کر کے معیشت کو تیزی سے ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات کی وجہ سے پالیسی ریٹ کو موجودہ 11سے کم کر کے6فیصد تک لایا جا سکتا ہے ۔ اس عمل سے جہاں بزنس کمیونٹی کا پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ پورا ہوگا بلکہ اس سے معیشت کیلئے بھی ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر ترقی کی راہیں کھلیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں