محکمہ تعلیم کی ناقص پالیسیوں کے باعث نہم جماعت کے نتائج بھی ناقص

ٹھیکریوالہ(نامہ نگار) محکمہ تعلیم حکومت پنجاب کی ناقص پالیسیوں کے باعث نہم کلاس کے نتائج بھی ناقص,گورنمنٹ سکولز میں اساتذہ کی کمی،پرائمری اور مڈل کلاس کے اساتذہ سے نہم،دہم کلاس کے نتائج اچھے کیسے برآمد ہو سکتے ہیں۔اساتذہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ عربی ٹیچرز سے انگلش،آرٹس ٹیچرز سے ریاضی اور پنجابی کے ٹیچرز سے سائنس سبجیکٹ پڑھائے جا رہے ہیں اس طرح وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سکولز میں اپنی طرف سے اساتذہ کی کمی کو پورا کر دیا ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ حب تک سکولز میں متعلقہ سبجیکٹ کا ٹیچر ہی نہیں ہو گا تو اچھے نتائج کیسے برآمد کئیے جا سکتے ہیں,سکولز بلڈنگ کو پینٹ کروانے, خوبصورت بنانے سے تعلیمی معیار بہتر نہیں ہو جاتا تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کیلئے اساتذہ کو عزت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ محکمہ تعلیم. دینا نہیں چاہتا, جب طلبا و طالبات نیچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے اس وقت بھی نتائج اچھے تھے اساتذہ کا عزت و احترام زیادہ تھا لیکن آج جب وزیر تعلیم ہی اساتذہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر الٹی سیدھی باتیں کریں گے تو اساتذہ مایوس نہیں ہونگے تو کیا ہو گا, وزیر تعلیم اور حکومت پنجاب اپنی غلط پالیسیوں کو ٹھیک کرنے کیلئے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھے اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر پالیسیاں مرتب کرے تو بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں