مذہب کے نام پر نفرت معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) کاتھولک کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس فیصل آباد کے زیر اہتمام بین المذاہب ہم آہنگی اور امن: ہماری مشترکہ ضرور ت کے موضوع پرایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ یہ سیمینار مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر پرتشدد واقعات کے متاثرین کی یاد میں عالمی دن کے موقع پر منعقد ہوا جس میں مختلف مذہبی، سماجی اور انسانی حقوق کے نمائندگان نے شرکت کی۔ بشپ اندریاس رحمت، فادر خالد رشید عاصی، فادر توفیق یونس، پیر محمد خرم سیفی، نسیم انتھنی اور شاہد انور ایڈووکیٹ نے شرکا سے خطاب کیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور دعائیہ کلمات سے ہوا، جس کے بعد مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں امن و بھائی چارے کو فروغ دینا اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے متاثرین کو یاد رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مقررین نے کہا کہ مذہب کے نام پر تشدد اور نفرت نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر برداشت، رواداری اور محبت کو فروغ دیں۔ مقررین نے زور دیا کہ مختلف مذاہب اور عقائد کے ماننے والے افراد کو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔اس موقع پر کیولک چرچ کے نمائندوں، مختلف مسالک کے علما، انسانی حقوق کے رہنمائوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی خطاب کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معاشرے میں امن، برداشت اور ہم آہنگی کے قیام کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔پروگرام کے اختتام پر امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں