راجستھان میں ڈائنو سار سے متعلق بڑی دریافت

راجستھان(بیو رو رچیف)راجستھان کے ضلع جیسلمیر کے ایک گاؤں میں ہڈی نما بڑی ساخت سمیت فوسل جیسے آثار دریافت ہوئے ہیں، جس سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مقام قبل از تاریخ ڈائنوسار کے دور سے متعلق ہو سکتا ہے۔یہ غیر معمولی پتھریلی ساختیں اور بڑی ڈھانچے سے مشابہ ہڈیاں جیسلمیر سے تقریبا 45 کلومیٹر دور میگھا گاں میں جھیل کے قریب کھدائی کے دوران مقامی لوگوں کو ملیں، فتح گڑھ کے اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار نے مقام کا دورہ کرکے ان باقیات کا معائنہ کیا۔حکام کو مطلع کرنیوالے مقامی شخص نے بتایا کہ جھیل کے قریب ڈھانچے جیسے آثار ملے ہیں جو بظاہر ڈائنوسار کی ریڑھ کی ہڈی معلوم ہوتے ہیں۔ شیم سنگھ کے مطابق انہوں نے جھیل کے پاس ڈھانچوں جیسے آثار اور پتھروں پر نقوش دیکھے۔ مجھے لگا یہ قدیم باقیات ہو سکتے ہیں، اس لیے میں نے محکمہ آثار قدیمہ اور انتظامیہ کو اطلاع دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ باقیات غالبا ڈائنوسار کے فوسلز ہیں، لیکن حتمی نتیجہ سائنسی جانچ کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔دریافت کے مقام کا معائنہ کرنیوالے جیولوجسٹ نرائن داس انکھیا کا کہنا ہے کہ یہ بہت ممکن ہے کہ یہ ڈائنوسار کے فوسلز ہوں۔ یہ درمیانے سائز کے دکھائی دیتے ہیں اور ان میں ہڈیوں کے ساتھ ممکنہ طور پر پروں کے آثار بھی ہیں۔ابھی تحقیق باقی ہے لیکن جب جیولوجیکل سروے آف انڈیا کی ٹیم پہنچے گی تو سائنسی اعتبار سے ان کی عمر اور تاریخی پس منظر معلوم ہو سکے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ جیسلمیر کے پتھریلے ذخائر تقریبا 18 کروڑ سال پرانے ہیں اور جراسک دور سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں