پولٹری باقیات اٹھانے والی گاڑیوں نے شہریوں کا جینا محال کردیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) محکمہ تحفظ ماحولیات کے افسران کی نااہلی کے باعث شہر بھر میں پولٹری کی باقیات اٹھانے والی گاڑیوں نے شہریوں کا جینا محال کر دیا’ کھلی گاڑیوں سے اُٹھنے والے تعفن کی وجہ سے سانس لینا بھی دوبھر ہو گیا، شہری حلقوں نے کمشنر مریم خان’ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر’ محکمہ تحفظ ماحولیات سمیت ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ پولٹری کی باقیات کی اٹھانے والی گاڑیوں کا گلی محلوں میں دن کے اوقات میں داخلہ بند کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر بھر کے گلی محلوں میں چکن شاپس موجود ہیں اور مرغیوں کو ذبح کرنے کے بعد ان کی باقیات کو دکاندار ڈرم میں جمع کرتے رہتے ہیں اور ان کی باقیات اٹھانے والی گاڑیاں دن بھر میں پولٹری شاپس سے باقیات اٹھانے آتی ہیں اور وہ مزدا ٹرک کھلے ہونے کی وجہ سے جہاں سے وہ گزرتی ہیں تعفن پھیل جاتا ہے اور اہل علاقہ کا سانس لینا بھی دوبھر ہو جاتا ہے۔ تعفن سے اٹھنے والے جراثیم کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ شہری حلقوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ پولٹری کی باقیات اٹھانے والی گاڑیوں کو شہر کے گلی محلوں میں رات دس بجے کے بعد داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ جس طرح ہیوی ٹریفک کی شہری حدود میں داخلہ رات دس بجے کے بعد ہوتا ہے کہ مذکورہ گاڑیوں کو اوپر سے بند اور داخلہ رات دس بجے کے بعد کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں