ملکی معیشت کی بہتری کیلئے مزید اقدامات ناگزیر (اداریہ)

گزشتہ دو دہائیوں سے ملکی معیشت غیر مستحکم چلی آ رہی ہے اس دوران جتنی بھی حکومتیں برسراقتدار آئیں انہوں نے اس اہم ترین مسئلہ پر زیادہ توجہ نہیں دی نتیجتاً یہ کمزور ہوتی گئی یہاں تک کہ یہاں کے سرمایہ کار بھی مایوسی کا شکار ہو گئے صنعتکاروں نے اپنی صنعتیں پاکستان سے باہر منتقل کرنا شروع کر دیں بیرونی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہوئی نئی بیرونی سرمایہ کاری تھم گئی اور ملک میں بے یقینی چھا گئی حکومت میں عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لیکر نظام حکومت چلاتی رہیں معیشت ڈانواڈول ہو گئی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ہمارے روپے کی قدر کم ہوتی گئی مہنگائی بڑھتی گئی عوام بدحال’ بیروزگاری بڑھنے لگی دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہونے لگیں جس سے عوام میں بے چینی پھیل گئی’ اب ملکی معیشت کئی برسوں سے عدم استحکام کے بعد آہستہ آہستہ بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے حکومتی اداروں کے اعداد وشمار کے مطابق مالی سال 2024-25ء میں معاشی حالات بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں بجٹ خسارہ گزشتہ سال کی نسبت جی ڈی پی کے مقابلے میں 6.8فی صد سے کم ہو کر 4فی صد پر آ گیا ہے جبکہ بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں خاطر خواہ بہتری آ رہی ہے جس سے حکومت کو مالیاتی استحکام میں مدد ملے گی، ماضی میں پاکستان کیلئے اندرونی اور بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی ایک اہم مسئلہ رہی ہے علاوہ ازیں قرضوں پر سود درسود کی ادائیگی سے بھی قومی وسائل پر دبائو میں اضافہ رہا جسکی وجہ سے حکومتوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی’ انفراسٹرکچر’ تعلیم اور صحت پر خرچ کیلئے وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس وقت بھی حالات بہت موافق نہیں اور حکومت کو مالی ڈسپلن برقرار رکھنے کیلئے کفایت شعاری کی پالیسی پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طویل مدتی ترقی یقینی بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ قومی وسائل مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا جا سکے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ریکارڈ ترسیلات زر بھیجنے سے ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں معاشی استحکام کے سبب حاصل ہونیوالے ثمرات کے نتیجے میں افراط زر بھی تیزی سے کم ہو کر 4.5فی صد کی سطح پر آ گئی ہے جس سے عام صارفین اور کاروباری طبقے کو یکساں فائدہ ہوا ہے تاہم اس حوالے سے مانیٹری پالیسی کو لچکدا بناتے ہوئے انٹرسٹ ریٹ کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر لانے کیلئے مزید کم کر کے سنگل ڈیجٹ تک لانے کی ضرورت ہے اس اقدام سے کاروباری طبقے کو آسانی ہو گی، ہمارے حکمران انڈسٹری کیلئے مراعات کا اعلان کریں تو صنعتوں کا پہیہ گھومے گا روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے برآمدات میں اضافہ ہو گا زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے معیشت مستحکم ہو گی’ موجودہ حکومت کی بیرونی سرمایہ کاری کیلئے کوششیں قابل تعریف ہیں مگر ان کوششوں کو اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک ملک پوری طرح خوشحال نہ ہو جائے مالیاتی اداروں کے قرضے اتر جائیں دوبارہ کسی بھی مالیاتی ادارے سے ملکی نظام چلانے کیلئے قرضہ نہ لینا پڑے حکومت کی کفایت شعاری مہم بھی سست پڑ رہی ہے اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے آج ہمیں پائی پائی بچانے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیابی مل سکے اپنی صنعت کو زندہ کرنا زراعت کو جدید بنانا تعلیم کو سرمایہ بنانا نوجوانوں کو روزگار فراہمی وقت کی ضرورت ہے اگر ہم نے اب بھی ملکی ترقی معیشت کی بحالی کیلئے سنجیدگی اختیار نہ کی تو پھر کامیابی کا حصول دشوار ہو گا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران دنیا کے مزاج کو سمجھیں اور پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے ہر وہ طریقہ اپنائیں جس سے ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہو عوام خوشحال ہوں…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں