ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی قلت (اداریہ)

ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت ہو گئی انسولین سمیت 79 ادویات دستیاب نہیں جبکہ پی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران لاکھوں مریضوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بن گیا ہے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک نئی اور حقیقت پسندانہ دوا کی قیمتوں کی پالیسی منظور کی جائے’ جو پیداواری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ادویات کی تیاری کو مالی طور پر ممکن بنا سکے پی ایم اے کے مطابق کم ازکم 80اہم ادویات مارکیٹ میں دستیاب نہیں جن میں ذیابیطس’ کینسر’ الزائمر’ پارکنسن’ امراض قلب اور نفسیاتی بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی جان بچانے والی ادویات شامل ہیں ان ادویات کی قلت کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ دائمی اور سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کیلئے جان لیوا خطرہ ہے مریض شدید پیچیدگیوں کا شکار ہیں ان کی صحت تیزی کے ساتھ خراب ہو رہی ہے انسولین کے انجکشن کی عدم دستیابی ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں شوگر پر قابو نہ پانے کا باعث بن رہی ہیں جس سے گردوں کے فیل ہونے بینائی کے نقصان اور اعضا کٹنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اسی طرح پیوندکاری کے مریض ایک اہم اینٹی فنگل دوا کی کمی کے باعث خطرناک فنگس انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں جو باعث تشویش ہے، پی ایم اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ادویات کی قلت کی ایک بڑی وجہ بلیک مارکیٹ کا بے قابو کاروبار ہے، یہ غیر قانونی بازار ملک بھر میں پروان چڑھ رہے ہیں اور ضروری ادویات کی قیمتوں میں بار بار اضافے کا باعث بن رہے ہیں انسولین کی ایک شیشی کی قیمت بلیک مارکیٹ میں تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے جو زیادہ تر خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے،، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا ملک میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت پر اظہار تشویش واقعی لمحہ فکریہ ہے 80اہم ادویات کا مارکیٹ میں دستیاب نہ ہونا بیماریوں میں مبتلا ہونے والے مریضوں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے انسولین کی ایک شیشی کی بلیک مارکیٹ میں تین گنا قیمت ہونے سے ذیابیطس کے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں حکومت کو ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کرنا چاہیے منافع خوروں کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے حکومت کو ایک ایسی فورس قائم کرنی چاہیے جو کسی سے بھی امتیازی سلوک نہ کرے جس کا مقصد صرف مافیاز کے گرد شکنجہ کسنا ہو، فورس میں وزارت صحت’ پی ایم اے اور فارما سیوٹیکل انڈسٹری کے نمائندے بھی شامل ہوں یہ فورس درآمدات’ لائسنسنگ اور پیداوار سے متعلق فوری فیصلے کرنے کے اختیارات رکھے تاکہ موجودہ قلت پر قابو پایا جاسکے، جان بچانے والی ادویات کی قلت بہت بڑا مسئلہ ہے اسے حکومت معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے اسے فوری طور پر حل کرنے میں دلچسپی لے ورنہ مافیاز ادویات کی بلیک مارکیٹنگ کر کے اپنی تجوریاں بھر لیں گے بے چارے مریضوں اپنے پیاروں کی زندگی کیلئے ہر قیمت پر ادویات لینے پر مجبور ہیں لہٰذا مارکیٹ میں جن داموں پر بھی مطلوبہ ادویات ان کو دستیاب ہوں گی وہ ان کو حاصل کرنے میں دریغ نہیں کریں گے پی ایم اے نے خطرے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے لہٰذا اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اہم مسئلہ کا فوری حل تلاش کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں