پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ سے دنیا میں ہلچل (اداریہ)

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ سے عالمی طور پر ہلچل مچ گئی ہے دونوں ملکوں کے تاریخی معاہدے کو وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی اور شاندار رابطہ کاری کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب قیادت دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتی ہے تاریخی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں یہ معاہدہ خطے میں امن سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا مشترکہ اعلامیہ نے تعلقات کے وسیع تناظر کو واضح کر دیا ہے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تعاون کی منفرد مثال ہیں یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے معاہدہ خطے میں امن سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا، پاک سعودیہ دفاعی معاہدوں کی خوشی میں گزشتہ روز ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا پاکستان اور سعودی عرب کی سلامتی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اس اہم معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے حملے کے بعد سے عرب ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے معاہدے کے بعد سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”سعودیہ اور پاکستان۔۔۔ جارح کے مقابل ایک ہی صف میں ۔۔۔ ہمیشہ اور اب تک” بلاشبہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ پاک سعودی اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی اور دفاعی تعاون کی مضبوطی کو ثابت کرتا ہے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردار دا کیا ہے معاہدے سے پاکستان اب حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودی عرب کا پارٹنر بن گیا ہے اس معاہدے کو نہ صرف دونوں ممالک کیلئے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس کے مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کی تاریخ کئی دہائی پرانی ہے دسمبر 2015ء میں اسی تناظر میں دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی کمان میں تشکیل پانے والے فوجی اتحاد کے تحت پاکستان کے تعاون سے جو خصوصی فوج تشکیل دی گئی تھی اس کی قیادت پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ جرنیل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سونپی گئی تھی 1989 میں جب عراق نے کویت پر حملہ کیا اور سعودی عرب کو اپنے بارڈر پر دفاعی خطرات کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت پاکستان نے فوراً اپنی افواج سعودی عرب بھجوائیں’ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ پاکستان کا دشمن سعودی عرب کا دشمن سمجھا جائے گا جو بھارت کو مخاطب کرنے کے برابر ہے بھارت جو سعودی عرب کے ساتھ کئی برس سے خاص تعلقات قائم کرنا چاہ رہا تھا اب اس کو زور دار چوٹ لگی ہے،، پاک سعودی دفاعی معاہدے سے مغربی حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے عراق میں امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نتیجہ قدم ہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ کی خبر نے اس نئی صورتحال کے حمایتیوں اور مخالفین کو یکساں طور پر حیرت اور دلچسپی میں مبتلا کیا ہے حالانکہ اس معاہدے سے قبل بھی دونوں ممالک میں مضبوط تعلقات موجود تھے لیکن یہ معاہدہ ایک نیا موڑ ثابت ہوا ہے معروف جیوپولیٹیکل تجزیہ کار آرنٹ برٹرینڈ نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کیلئے ایک ایسا لمحہ ہے جیسے مصر میں سوئز کینال کا بحران’ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان یہ نیٹو جیسا معاہدہ دونوں ممالک کے دفاع کو مشترکہ طور پر جوڑتا ہے ابھی تک امریکہ محکمہ خارجہ اور اسرائیل کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن پاکستان اور سعودی عرب نے یہ قدم اپنی سلامتی کیلئے اٹھایا ہے، نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاک سعودیہ دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی شرکت کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا تاہم کچھ ممالک خواہش ضرور رکھتے ہیں دفاعی معاہدہ میں کئی ماہ کا وقت صرف ہوا ہے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خفیہ شرائط نہیں کسی دوسرے ملک نے چاہا تو انہیں بھی معاہدے میں شامل کرنے پر غور کر سکتے ہیں،، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے عالمی طور پر چرچے اس بات کو ظاہر کر رہے ہیں کہ دنیا اس معاہدے کو اس تناظر میں دیکھ رہی ہے کہ آنے والے وقت میں یہ نیٹو جیسا معاہدہ بھی ثابت ہو سکتا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی معاہدہ درحقیقت صرف اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے ہے اور اسے دنیا کو خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے کسی بھی ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرے پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کر کے مستقبل میں ایک دوسرے کے دفاع کو یقینی بنایا جو دونوں ممالک کا حق ہے اس پر کسی ملک کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں