مسلم ممالک میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ (اداریہ)

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جس کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی پاک سعودیہ اتحاد محض عسکری یا معاشی نہیں بلکہ روحانی بھی ہے پاکستان نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ صرف اپنے وطن کا نہیں بلکہ امت کا بھی محافظ ہے یہی وہ جذبہ ہے جو مسلمانوں کے دلوں کو جوڑ رہا ہے عرب دنیا کے عوام آج پاکستان کو اپنے محافظ کے طور کے طور پر دیکھ رہے ہیں فلسطین کے مظلوم’ کشمیر کے مجبور’ شام اور یمن کے بے بس عوام آج اپنی آنکھوں میں یہ یقین لئے بیٹھے ہیں کہ ایک طاقت ہے جو ان کے لیے کھڑی ہو گی یہ طاقت نہ مغرب ہے نہ مشرق یہ طاقت خود ان کے اپنے اندر سے بھری ہے یہ وہ لمحہ ہے جو صدیوں کے اندھیروں کو چیر کر آیا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار اس اتحاد میں فیصلہ کن ہے انہوں نے اپنے اقدامات سے واضح کیا ہے پاکستان کا دفاع محض اپنی سرحدوں کا نہیں بلکہ امت کی عزت اور بقا کا دفاع ہے ان کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور اعتماد اﷲ پر ہو تو کوئی دشمن سر نہیں اٹھا سکتا ان کی شخصیت دُنیا کے سامنے ایک مسلمان راہنما کے طور پر ابھری ہے وہ راہنما جو اپنی فوج کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پوری امت کو بھی نئی سمت دے رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ایک عہد ہے جس میں امت مسلمہ اپنی بقاء اپنی عزت اور اپنے دفاع کیلئے کھڑی ہے یہ آغاز ہے مگر اتنا مضبوط کہ آنے والی نسلیں جب اپنی تاریخ پڑھیں گی تو فخر سے کہیں گی کہ پاکستان نے اﷲ کے فضل سے امت کا امین بننے کی ذمہ داری اٹھائی اور اسے پورے وقار کے ساتھ دنیا کے سامنے نبھایا یہی پاکستان کی کامیابی ہے اور یہی امت کی فتح یہی وہ لمحہ ہے جب دنیائے مانا کہ تاریخ بدل گئی اور امت نے اپنی تقدیر کا نیا باب رقم کر دیا سب کچھ اﷲ کے فضل وکرم کے بغیر ممکن نہ تھا جب دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ پاکستان اپنے داخلی بحرانوں’ سیاسی انتشار اور معاشی مشکلات میں دب کر بکھر جائے گا تب اﷲ نے ایک ایسا قائد دیا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کو سہارا دیا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ نہ صرف دو ملکوں کی سرحدوں کا محافظ ہے بلکہ ایک نئے عہد کا آغاز ہے یہ اعلان ہے کہ اگر کسی ایک پر حملہ ہوا تو وہ سب پر حملہ تصور ہو گا یہ جملہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسے عزم کی علامت ہے جس نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے، دفاعی معاہدہ دراصل ایک بڑے اتحاد کی بنیاد ہے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ قطر اور یو اے ای کی شمولیت کے امکانات نے اس اتحاد کو اور زیادہ طاقتور بنا دیا ہے یہ دونوں ممالک اگر شامل ہوتے ہیں تو امت مسلمہ کی عسکری تاریخ کا سب سے بڑا اتحاد سامنے آئے گا، یہ اتحاد عرب دنیا کے ڈھال ثابت ہو گا اور دشمنوں کیلئے یہ پیغام کہ مسلمان اب تنہا نہیں ہیں یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہ اہے جب دنیا کا توازن بدل رہا ہے مغرب کی بالادستی کمزور پڑ رہی ہے امریکہ اپنی پرانی حیثیت کھو چکا ہے یورپ اپنے داخلی مسائل میں الجھا ہے دوسری طرف مشرق ابھر رہا ہے چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے طور پر سامنے آیا ہے اور عرب دنیا اب مغرب کے بجائے مشرق کی طرف دیکھ رہی ہے اس منظرنامے میں پاکستان کا کردار فیصلہ کن ہے، یہ اتحاد پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کیلئے بھی ایک دھچکا ہے اس کے پاکستان کو کمزور کرنے کے خواب دم توڑ رہے ہیں اسرائیل کے لیے بھی یہ اتحاد ایک چیلنج ہے اس نے ہمیشہ فلسطین پر ظلم ڈھایا فلسطین کے عوام کیلئے یہ اتحاد ایک نئے دور کی امید ہے،، خدا کرے پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے ایک بڑے اتحاد کی جانب تیزی سے بڑھے اور امت مسلمہ ایک ہو جائے تاکہ اسلام کے دشمنوں کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکے پاکستان کی بھارت کے ساتھ جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کی مسلمان ملکوں میں اہمیت میں اضافہ ہوا اور پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کے بعد دیگر اسلامی ممالک بھی اس اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں اگر مسلمان ممالک متحد ہو گئے تو مسلمانوں کو مٹانے کے عزائم رکھنے والے اسلام دشمن ممالک کو ٹف ٹائم ملے گا مسلمان تو کبھی بھی اﷲ کی راہ میں جان قربان کرنے سے نہیں ڈرتا اور پاکستان کی افواج میں نڈر قیادت بہادر افسران اور جانبازوں کی کوئی کمی نہیں یہ بات دشمن بھی جانتے ہیں پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کے بعد ایک مضبوط اتحادکا قیام وقت کی ضرورت ہے اور اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی دفاعی قوت میں وقت کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے تحت اضافہ کریں اور دشمنوں کو کبھی موقع نہ دیں کہ وہ ان کی سلامتی سے کھیل سکے اسی میں امت مسلمہ کی بقاء ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں