اسلام آباد (بیوروچیف) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے رواں برس پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان رواں سال 31 دسمبر سے قبل کسی بھی وقت پاکستان کا دورہ کریں گے۔ان کے دورے کی تاریخوں کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔ دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ اس دورے کے لیے کام کر رہی ہے لیکن اسی سال شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان حتمی ہے۔اس دورے کے دوران جہاں سعودی عرب کی طرف سے 5ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان متوقع ہے وہیں گزشتہ سال اکتوبر میں سرمایہ کاری معاہدے آگے بڑھنے اور ان پر کام شروع ہونے کی امید بھی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ طویل عرصے سے متوقع تھا لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر ملتوی ہوتا رہا واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب 2برادر اسلامی ملک ہیں، حال ہی میں دونوں ملکوں کے درمیان بڑا دفاعی معاہدہ ہوا ہے جس کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں پر جارحیت تصور کی جائے گی۔یہاں یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں دفاعی پیداوار کے حوالے سے بھی ممکنہ طور پر کچھ معاہدات کیے جائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ زراعت صنعت انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری متوقع ہے۔پاکستان اور سعودی عرب میں تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد یہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان کا یہ پہلا جبکہ مجموعی طور پر دوسرا دورہ ہوگا۔اس دورے کے دوران وہ پاکستان کی اعلی سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں تجارتی و معاشی تعاون کے امور زیر بحث آئیں گے۔سعودی عرب پاکستان کا ایک ایسا دوست ملک ہے جس نے مشکل حالات میں ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد اس وقت سعودی عرب میں ملازمت کرتی ہے جس کے ذریعے پاکستان کثیر زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔سنہ 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا پیکج دیا تھا اور پاکستان کو تیل کی خریداری پر ادائیگی کی مہلت بھی دیتا رہتا ہے لیکن اب سعودی عرب پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بھی کررہا ہے۔سنہ 2023میں پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب پاکستان میں کان کنی، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 25ارب ڈالر سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ 10اکتوبر 2024کو پاکستان میں آئے سعودی وفد نے 2.2ارب ڈالر سرمایہ کاری کی 27مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کیے جن کا حجم بعد میں 2.8 ارب ڈالر ہو گیا۔سعودی عرب نے یہ معاہدے صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک، تعلیم، کان کنی ، معدنیات، صحت، پیٹرولیم، توانائی اور باہمی تعاون کے دیگر شعبوں کی ذیل میں کیے۔ان 27 میں 5 معاہدات پر کام کا آغاز بھی ہوچکا ہے جن میں اسپتال اور زراعت کے منصوبے شامل ہیں۔تانبے اور سونے کے ذخائر کے حوالے سے مشہور مقام ریکوڈک پر سعودی عرب 54 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے جو بلوچستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے ایک اہم منصوبہ ہے۔ریکوڈک تانبے اور سونے کے ذخائر کے حوالے سے دنیا کی بڑی کانوں میں شمار ہوتی ہے جہاں اندازے کے مطابق 5.9 ارب ٹن تانبے اور 41.5 ملین اونس سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کان پر منصوبے کی لاگت 9 ارب ڈالر جبکہ ابتدائی طور پر 4.5 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ریکو ڈک منصوبہ 2028 تک باقاعدہ پروڈکشن کا آغاز کر دے گا اور ایک اندازے کے مطابق اس سے پاکستان کو 74 ارب ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے سے اس علاقے میں مقامی افراد کو ہزاروں ملازمتوں کے مواقع سمیت علاقے کا انفرا اسٹرکچر بہتر ہونے کی توقع ہے۔اسی طرح سے سعودی کمپنی آرامکو پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی لاگت سے گوادر یا حب کے مقام پر آئل ریفائنری لگانے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں روزانہ 3 لاکھ بیرل تیل صاف کیا جاسکے گا۔پاکستانی حکومت نے سعودی حکومت کو پنجاب میں 25 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک کیٹل فارم بنانے کی تجویز بھی دی ہے۔ملک کی 100 انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اس سال سعودی آئی ٹی میلے میں حصہ لیا جس سے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات دگنی ہونے کی توقع ہے۔




