افغان حکومت کی جارحیت قابل مذمت ہے، ڈاکٹر راغب نعیمی

لاہور(بیوروچیف) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ افغان حکومت کی بلااشتعال جارجیت قابل مذمت ہے۔ پاک فوج نے جرات مندانہ ردِ عمل دے کر قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے، مگر افغان حکومت کی جانب سے بار بار اشتعال انگیز اقدامات سے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ ایسے حملے علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں، اور ان کا فوری تدارک اور عالمی سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جامعہ نعیمیہ میں نعیمین ایسوسی ایشن پاکستان کے مرکزی عہدیداروں سے تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حلف اٹھانے والوں میں مفتی علی رضاصابری، مفتی ابوبکر قریشی، مولانا فدا حسین قادری، مولانا غلام یاسین باروی، قاری جمیل احمد،مفتی سعید احمدنقیبی،حافظ محمدشاہد،مفتی بلال قادری،مفتی تنویر احمد شامل تھے۔تقریب میں حاجی امداد اللہ نعیمی،ڈاکٹر وارث علی شاہین،مفتی قیصر شہزاد نعیمی،مفتی ندیم قمر،مفتی عمران حنفی،مفتی محمدعارف حسین، مفتی شفقت علی یوسفی سمیت جامعہ نعیمیہ کے اساتذہ و طلبہ کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے غزہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ بلاآخر مختلف ممالک کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی معاہدہ ہوگیا ہے امید ہے کہ غزہ کی تعمیر نو میں دنیا کے تمام بڑے ممالک اپنا موثر کردار اداکریں گے تاکہ وہاں مستقل امن قائم ہوسکے ۔انہوں نے علماء ، میڈیا اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کریں اور قومی سلامتی کے معاملات پر سیاست سے گریز کریں۔امتِ مسلمہ کو آج جس فکری انتشار اور فتنوں کا سامنا ہے، اس سے نکلنے کے لیے علمائے کرام کا فعال، غیر متنازعہ اور خالص دینی کردار ناگزیر ہے۔ اگر علماء متحد ہو کر فتنہ پرور سوچوں کا علمی اور اخلاقی رد کریں، تو امت کو ایک بار پھر وحدت، امن اور ترقی کی طرف گا مزن کیا جا سکتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر ملک قومی کی سلامتی کیلئے خصوصی دعاکرائی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں