طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ پاکستان کیلئے تشویشناک (اداریہ)

طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ پاکستان کیلئے تشویش کا باعث’ طالبان وزیر خارجہ کا بھارت کا متنازعہ دورہ کے ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ’ اسلام آباد نے نئی دہلی پر کشیدگی بھڑکانے کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بھارت عدم استحکام پھیلانا چاہتا ہے، افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ شدید سرحدی جھڑپوں نے خطے میں نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے جس کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملوں کا الزام عائد کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیردفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت طالبان حکومت کو پاکستان کے خلاف اشتعال دلا رہا ہے جبکہ اسلام آباد میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ نئی دہلی اور طالبان کے درمیان گٹھ جوڑ پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ دورہ نئی دہلی جو 2021ء کے بعد کسی اعلیٰ طالبان راہنما کا پہلا دورہ تھا نے اس تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے اسی دوران افغان سرزمین سے ہونیوالے حملوں میں پاکستان کے 100 سے زائد سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جن کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان پر ڈالی جا رہی ہے پاکستان کا کہنا ہے کہ کابل ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان اور بھارت کے درمیان یہ بڑھتا ہوا گٹھ جوڑ نہ صرف پاکستان کے لیے چیلنج ہے بلکہ خطے کے توازن میں بھی اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے،، بھارت معرکہ حق میں پاکستان سے شکست کے بعد افغانستان کا کندھا استعمال کرنے میں مصروف ہے اور دہشت گرد گروہوں کو متحرک کر کے پاکستان کے خلاف اشتعال دلا رہا ہے جو باعث تشویش ہے پاکستان نے اپنی بہترین حکمت عملی سے بھارتی عزائم کو ناکام بنا دیا پاکستان اور افغانستان میں مذاکرات کے بعد دونوں ممالک میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا دونوں ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کام کرنے والے گروپوں کو روکیں گے پاکستان اور افغانستان نے آئندہ چند دنوں میں مزید ملاقاتیں کرنے اور امن واستحکام کیلئے ایک مستقل میکنزم تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ سرحدی کشیدگی ختم کرنے کیلئے ایک مضبوط بنیاد بنے گا اس معاہدے کے تحت افغانستان کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہو گا 25اکتوبر کو پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان ایک اور تفصیلی ملاقات ہو گی جس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانستان اور پاکستان کے حکام کے مذاکرات اورامن معاہدہ کا طے ہونا خوش آئند ہے، پاکستان خطے میں امن وسلامتی اور استحکام کیلئے ہمیشہ سے کوشاں رہا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہمسایہ ممالک پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بُن رہے ہیں بھارتی خفیجہ ایجنسی ”را” فتنہ الخوارج اور مختلف دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر کے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے درپے ہیں بھارت افغانستان میں اپنا اثر رسوخ بڑھ رہا ہے افغانستان اور پاکستان میں کشیدگی پیدا کرنے میں بھی بھارت ملوث ہے طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ پاکستان کیلئے باعث تشویش ہے اس نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے پاکستان پوری طرح متحرک جبکہ پاکستانی افواج اور فورسز دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں فتنہ الہندوستان الخوارج اور ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروہوں کے خاتمہ کیلئے سکیورٹی فورسز اپنا کردار ادا کر رہی ہیں انشاء اﷲ بہت جلد وہ وقت بھی آئے گا کہ پاکستان کے دشمنان کی تمام سازشیں دم توڑ جائیں گی پاکستان اﷲ کی عطاء ہے اور یہ قیامت تک قائم رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں