چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینا اہم قرار (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ گھریلو صنعتوں کی رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ انہیں کاروباری وسعت کیلئے قرض کے حصول میں آسانی ہو سمیڈا کے روڈ میپ کے اطلاق کی واضح مدت طے ہو اور اطلاق جلد سے جلد یقینی بنایا جائے زرعی اجناس کی پراسیسنگ کیلئے دیہی علاقوں میں ایس ایم ایز کے حوالے سے تربیت یقینی بنائی جائے چھوٹے ودرمیانے پیمانے پر (SMEs) کی صنعتوں میں خواتین کی شمولیت کو بڑھانے کیلئے اقدامات خوش آئند ہے اس اقدام کی آگاہی بڑھائی جائے پاکستان کی صنعتی ترقی سے مشروط ہے، ترقی یافتہ ممالک میں بڑی صنعتوں کا خام مال ایس ایم ایز فراہم کرتی ہیں وزیراعظم نے سمیڈا کی تنظیم نو اور ایس ایم ایز کی ترقی کیلئے وزارت صنعت وپیداوار کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا، وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کو سمیڈا کی تنظیم نو اور ایس ایم ایز کی ترقی کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی اجلاس کو بتایا گیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایس ایم ایز کی ترقی کیلئے دفاتر کھول دیئے گئے ہیں جس کی عوام وچیمبرز کی طرف سے پذیرائی کی جا رہی ہے سمیڈا کا نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل بورڈ تشکیل دیا جا چکا ہے جبکہ آئندہ چند روز میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی مکمل کر لی جائے گی، اسٹرئینگ کمیٹی کے احکامات کی بدولت ایس ایم ایز کی استعداد’ قرضوں کی فراہمی’ سرمائے اور اشتراک میں خاطر خواہ اضافہ ہوا خواتین کی ایس ایم ایز شعبے میں حوصلہ افزائی کیلئے وومن پرینیورشپ پلیٹ فارم تشکیل دیا جا رہا ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی ہو گا یہ پلیٹ فارم خواتین کو کاروباری شعبے کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ رجسٹریشنز معاملات اور ہنر کی آگاہی بھی دے گا اجلاس کو ایس ایم ایز کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے کیلئے اقدامات کا روڈ میپ بھی پیش کیا گیا،، وزیراعظم شہباز شریف کی گھریلو صنعتوں کی حوصلہ افزائی اور خواتین کو چھوٹے کاروبار کیلئے قرضہ کی فراہمی اور راہنمائی کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت خوش آئند ہے چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی ضرورت ہے چونکہ کاٹیج انڈسٹری کو محدود سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس سلسلے میں ایس ایم ایز کی سپورٹ اہم کردار ادا کر سکتی ہے پاکستان میں گھریلو صنعتوں کو اہمیت نہ ملنے سے یہ چھوٹی صنعتیں آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں جس کا ان صنعتوں سے وابستہ افراد کو بہت نقصان ہوا ان کا روزگار چھن گیا کاٹیج انڈسٹری میں کئی ایسے افراد بھی تھے جن کی گزر بسر ہی گھریلو انڈسٹری تھی جس کی بندش کے باعث ان کا نہ صرف روزگار جاتا رہا بلکہ ان کو چھوٹی موٹی نوکری کیلئے دھکے کھانے پڑے گھریلو صنعتوں کے فروغ کیلئے اگر ریاست مؤثر پالیسی ترتیب دیتی تو چھوٹی صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت سے فائدہ اٹھاتی رہتیں مگر ان صنعتوں کو نظرانداز کرنے کے بہت نقصانات ہوئے اب حکومت نے چھوٹی صنعتوں چھوٹے کاروبار کے فروغ کیلئے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اچھا فیصلہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے وسیع پیمانے پر اقدامات کئے جائیں تاکہ اس انڈسٹری کو فروغ حاصل ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں