پاک’ افغان کشیدگی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں (اداریہ)

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا تاحال کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا دونوں ملک اگر کسی بھی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے تو دونوں کو نقصان ہو سکتا ہے افغان طالبان تحریری معاہدہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ ان کے مطالبات بھی ناقابل قبول ہیں پاکستان نے افغان طالبان کو واضح کر دیا تھا کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی نامنظور ہے پاکستان نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے برعکس طالبان کے غیر منطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر ہیں، صاف دکھائی دے رہا ہے کہ افغان کسی اور ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایجنڈا افغانستان’ پاکستان اور خطے کے مفاد میں نہیں’ پاکستان نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی حکومت دہشت گردی روکے’ خوراج کی سرپرستی ختم کرے’ یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان سے دراندازی کے واقعات عبوری افغان حکومت کے دہشت گردی سے متعلق اداروں پر سنجیدہ سوالات اُٹھاتے ہیں فتنہ الخوارج کی دراندازی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے وفود کشیدگی کے خاتمہ کیلئے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں پاکستان کا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرحدی نگرانی کو مؤثر بنائے اور دوحہ مذاکرات کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے مگر افغان عبوری حکومت پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے سے دہشت گردوں کو روک نہیں سکی جس کا مطلب واضح ہے کہ دہشت گرد گروپوں کو افغان طالبان کی سرپرستی حاصل ہے یہ بات افسوس ناک ہے کہ افغانستان بھارت کے ایما پر پاکستان کے خلاف مخاصمانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے جسکی وجہ سے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں افغان طالبان رجیم اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان مخالف عزائم کو واضح کرتے ہیں یہ کیسی تکلیف دہ بات ہے کہ افغان طالبان ایک طرف اسلام کے نعرے لگا رہے ہیں اور دوسری طرف بھارت میں قائم ایک ایسی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں جو مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہے اور بھارت کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے وہ مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کو نہ صرف جائز سمجھتی ہے بلکہ اس کے لیے جنونیوں کو بھی آشیرباد دے رہی ہے، اگر افغان طالبان نے اپنا رویہ درست نہ کیا اور خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی تو یہ خطرناک ہو گا کیونکہ پاکستان کسی بھی ایسی صورتحال میں خاموش نہیں رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں