PMAکاFBRکیخلاف احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن فیصل آباد کے زیرِ اہتمام نجی ہسپتالوں کے مالکان اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ساہل ہسپتال، فیصل ہسپتال، مجاہد ہسپتال، پرائم کیئر ہسپتال، راتھر ہسپتال سمیت دیگر نجی ہسپتالوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر رائے عارف، ڈاکٹر طفیل محمد، ڈاکٹر سالت نواز، ڈاکٹر محمد عرفان اور ڈاکٹر عبد الستار قریشی بھی موجود تھے۔اجلاس میں ایف بی آر کے انسپکٹرز کے ہسپتالوں میں چیکنگ کے دوران اختیار کیے گئے رویے کی شدید مذمت کی گئی۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے واضح طور پر کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ کو ہراساں کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ڈاکٹر برادری باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتی ہے اور انسانیت کی خدمت میں دن رات مصروف ہے، جبکہ ڈاکٹروں کا پیشہ کسی ایسے کاروبار میں شامل نہیں جہاں پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم نافذ کیا جائے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہراساں کرنا بند کیا جائے۔ ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ کسی بھی قسم کی چیکنگ سے قبل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پرائیویٹ ہسپتال ایسوسی ایشن سے مشاورت کرے، مگر بدقسمتی سے ایف بی آر نے مشاورت کے بجائے ہراسانی کا راستہ اختیار کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رائے عارف نے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا، جس کے مطابق:ہفتہ، 20 دسمبر: تمام نجی ہسپتالوں میں ایف بی آر کے خلاف بینرز آویزاں کیے جائیں گے۔پیر، 22 دسمبر: ڈاکٹروں کو درپیش مسائل اور ایف بی آر کی ہراسانی کے خلاف پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔منگل: نجی ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور PMA کابینہ کی جانب سے ایف بی آر دفتر کے سامنے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔25 دسمبر سے: تمام نجی ہسپتال غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جائیں گے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن فیصل آباد نے واضح کیا کہ ہم ٹیکس ادا کرنے والے ذمہ دار شہری ہیں، مگر ایف بی آر کی بلیک میلنگ اور ہراسانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں