لال بیگ سے نجات کے موثر طریقے

کراچی ( بیو رو چیف )سردیوں کا موسم آتے ہی جہاں لوگ گرم کھانوں، گرما گرم سوپ اور نرم کمبل سے لطف اندوز ہوتے ہیں، وہیں ایک ناپسندیدہ مہمان سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔ اور وہ ہے کاکروچ۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ سرد موسم میں کیڑے مکوڑے ختم ہو جاتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔سردیوں میں کاکروچز کے حملے اکثر بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پرکچن میں ان کی بڑھتی ہوئی تعداد مشکلات پیدا کردیتی ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنا اور بروقت روک تھام کرنا ضروری ہے۔کچن کی دیواروں، سنک کے نیچے، گیس پائپ کے اردگرد اور الماریوں کے پیچھے موجود باریک دراڑیں کاکروچز کی محفوظ پناہ گاہ بن جاتی ہیں۔ سلیکون سیلنٹ یا فلر سے ان جگہوں کو اچھی طرح بند کرنا نہایت ضروری ہے۔کاکروچز کے لیے پانی زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سونے سے پہلے سنک کو خشک کریں، گیلا کپڑا یا اسفنج نہ چھوڑیں اور اگر کہیں سے پانی ٹپک رہا ہو تو فورا مرمت کروائیں۔ ہفتے میں ایک بار گرم پانی میں نمک یا بیکنگ سوڈا ملا کر نالی میں ڈالنا بھی مفید ہے۔تیز پات اور لونگ کاکروچز کو بھگانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہیں پیس کر اناج کے ڈبوں، درازوں اور اندھیری جگہوں میں رکھ دیں۔ سردیوں میں کھڑکیاں بند رہنے کے باعث ان کی خوشبو زیادہ دیر تک اثر دکھاتی ہے۔الماریوں اور شیلف کو خالی کر کے گرم پانی اور سفید سرکے کے محلول سے صاف کریں۔ یہ طریقہ نہ صرف چکنائی ختم کرتا ہے بلکہ کاکروچز کے خوشبو کے راستے بھی مٹا دیتا ہے، جس سے وہ دوبارہ واپس نہیں آتے۔کھلا آٹا، چاول، دالیں یا اسنیکس کاکروچز کو دعوت دینے کے مترادف ہیں۔ پلاسٹک یا شیشے کے ایئر ٹائٹ کنٹینرز استعمال کریں اور گتے کے ڈبوں سے پرہیز کریں، کیونکہ کاکروچ انہیں آسانی سے کاٹ لیتے ہیں۔کاؤنٹر، فرش اور آلات کی صفائی باقاعدگی سے کریں۔ کوڑے دان کو فوری خالی کریں اور کرمز یا گرا ہوا کھانا فورا ًصاف کریں۔صرف اسپرے پر انحصار کرنا، جو کاکروچز کو چھپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔اگر دن کے وقت بھی کاکروچ نظر آنے لگیں یا انڈوں کے خول دکھائی دیں تو سمجھ لیں کہ مسئلہ سنگین ہو چکا ہے۔ ایسے میں فوری طور پر پیشہ ور پیسٹ کنٹرول سے رجوع کرنا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ سردیوں میں کیا گیا علاج زیادہ دیرپا ثابت ہوتا ہے۔کچن کو صاف، خشک اور منظم رکھ کر آپ سردیوں میں بھی کاکروچز سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ چند مستقل عادات اپنا کر آپ اپنے کھانے کی جگہ کو ان ناپسندیدہ مہمانوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں