مدنی ہاؤس میں عظیم الشن جشن شیر خدا حضرت علی علیہ اسلام کا اہتمام

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ”ڈیلی بزنس رپورٹ” کے نیوز ایڈیٹر ریاض ملک کے زیراہتمام ان کی رہائش گاہ مدنی ہائوس، مدنی سٹریٹ چھوٹی ڈی گرائونڈ میں مولائے کائنات، حیدر کرار’ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام کے جشن ولادت کی مناسبت سے عظیم الشان نورانی’ وجدانی محفل پاک کا انعقاد کیا گیا، حافظ القاری محمد شاویز ریاض ملک نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل فرمائی اور نعت خواں محمد افتخار رضا قادری نے گلہائے عقیدت پیش کئے، میزبان محفل سینئر صحافی ریاض ملک نے کہا کہ اﷲ رب العزت کا کروڑ ہا بار شکر ہے جس نے ہمیں اہل بیت اطہار کی محبت ومودت عطا فرمائی اور جشن ظہور مولائے کائنات علیہ السلام منانے کی توفیق بخشی۔ شرکاء میں ممتاز عالم دین حضرت علامہ مفتی اظہار الحق زاہدی ایڈووکیٹ’ ایم ایس چلڈرن ہسپتال ڈاکٹر عامر نوید’ ممتاز کاروباری شخصیات بائو امجد سعید’ پیارے بھائی مرزا شہزاد محمود مغل’ محمد رضا’ معظم خان’ ملک بنیامین صابری’ میاں محمد عدنان’ ملک محمد سرور’ شیخ محمد عظیم’ سید ساجد شاہ’ ممتاز عالم دین حافظ ظفر اقبال’ مفتی محمد نعیم’ سینئر صحافی محمد اختر جاوید’ سید اظہار الحسن نقوی’ سید فرخ نقوی شامل تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خطیب پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ اظہار الحق زاہدی ایڈووکیٹ نے کہا کہ شیرخدا’ فاتح خیبر’ شہنشاہ ولایت حضرت علی علیہ السلام کی حیات مبارکہ کا ایک ایک پہلو مشعل راہ ہے، اگر دنیا وآخرت میں امت رسولۖ کامیابی چاہتی ہے تو حضرت علی علیہ السلام سے محبت وعقیدت کیساتھ ساتھ آپ کی تعلیمات پر مکمل عمل کیا جائے، مودت محبت کا عملی اظہار ہے جو اطاعت، قربانی اور وفاداری کی شکل میں سامنے آتا ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اہل بیت سے مودت کا حکم ہے، جو صرف زبانی نہیں بلکہ عملی اطاعت اور قربانی کا تقاضا ہے، باب علم وحکمت’ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی شان کا کیا کہنا! قرآن پاک کی تین سو آیات آپ کی شان میں نازل ہوئیں، آپ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی اور آپ وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں یہ شرف حاصل ہوا، آپ 10سال کی عمر میں حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے پہلے شخص ہیں، کائنات کی بہترین خاتون سیدہ فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا سے ازدواج اور بہترین اولاد کا ہونا آپ کے عظیم افتخارات میں سے ہے، اپنے خطاب کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی علمی شان بیان کرتے ہوئے آپ کو علم وحکمت کا دروازہ فرمایا ہے، آپۖ نے فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، حضرت سیدنا علی المرتضیٰ فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر دعا کی: اے اﷲ علی کے سینے کو علم’ عقل ودانائی’ حکمت اور نور سے بھر دے، باب علم وحکمت حضرت سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے علم کے ایک ہزار باب سکھائے اور میں نے ان میں ہر باب سے مزید ایک ہزار باب نکالے، آپ علیہ السلام کی شان بیان کرتے ہوئے صحابی رسول حضرت سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ نے خطبے کے دوران فرمایا: مجھ سے سوال کرو! تم مجھ سے قیامت تک ہونے والے جس معاملے سے متعلق بھی پوچھو گے میں تمہیں اس کا جواب ضرور دوں گا، آپ علیہ السلام قرآن کریم کی آیات کے بارے میں جانتے تھے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازل ہوئی چنانچہ منبع علم وحکمت’ مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضی علیہ السلام نے فرمایا: مجھ سے قرآن کریم کے بارے میں پوچھو، بے شک! میں قرآن پاک کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ رات میں نازل ہوئی ہے یا دن میں، ہموار زمین پر نازل ہوئی ہے یا پہاڑ پر، ایک مقام پر مولا علی مشکل کشا علیہ السلام نے فرمایا: اﷲ پاک کی قسم میں قرآن کریم کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ کب اور کہاں نازل ہوئی اور کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے، حضرت سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مولائے کائنات حضرت سیدنا علی علیہ السلام ایسے عالم ہیں کہ جن کے پاس قرآن کریم کے ظاہر وباطن دونوں کا علم ہے، محبوب خدا، حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے، سبحان اﷲ! کیسی شان ہے اور یہ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی خصوصی فضیلت ہے، ایک موقع پر امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ان کی بیٹی ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ ابا جان! جس مجلس میں حضرت علی ہوتے ہیں، آپ ان کا چہرہ دیکھتے رہتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ حضرت علی کا چہرہ دیکھنا وہ عبادت ہے جو ہر حال میں قبول ہوتی ہے، اس پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ ایک وقت ایسا آئے کہ جب حضرت علی ظاہری پر لوگوں میں موجود نہیں ہونگے تو کیا وہ لوگ اس مقبول عبادت سے محروم رہ جائیں گے؟ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ علی کا ذکر کرنا بھی عبادت ہے، جو آپ کی شان بیان کریں یا آپ کا ذکر سن کر خوش ہوں تو یہ اﷲ تعالیٰ کی وہ عبادت ہے جو ہر حال میں قبول ہے، اس لئے اس مقبول عبادت سے کسی کو محروم نہیں رکھا گیا، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے اس مبارک ارشاد گرامی سے ذکر علیعلیہ السلام کی اہمیت وفضیلت عیاں ہوتی ہے، اﷲ تعالیٰ اہل اسلام کو اس مقبول عبادت سے فیض یاب ہونے کی توفیق بخشے،اس عظیم الشان جشن ظہور مولائے کائنات علیہ السلام کے موقع پر عالم اسلام کی سربلندی’ وطن عزیز پاکستان کی سلامتی ترقی وخوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور شرکاء کی پُرتکلف ضیافت کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں