جڑانوالہ (نامہ نگار) پتنگ بازی کے خونی کھیل کے فروغ میں خطرناک حد تک اصافہ کسی وقت بھی انسانی جان کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے،عوامی سماجی حلقوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے پتنگ بازی کے کھیل پر پابندی کا پرزور مطالبہ،تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ میں پتنگ بازی کے خونی کھیل میں دن بدن خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جڑانوالہ کے متعدد اندرونی علاقوں میں آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا دکھائی دیتا ہے اور معصوم بچے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر سارا دن بوکاٹا کے نعرے لگاتے ہیں جو مقامی انتظامیہ کی مبینہ چشم پوشی کا منہ بولتا ثبوت ہے عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی کے باعث جڑانوالہ میں جاری پتنگ بازی کے خونی کھیل میں اضافہ کسی بھی وقت انسانی جان کے ضیائع کا سبب بن سکتا ہے اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر پتنگ بازی کرنیوالے معصوم بچوں کی جانیں بھی دا پر لگ چکی ہے عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سابق ادوار میں انسانی جانوں کے ضیائع کے واقعات میں اضافہ کے باعث حکومت نے پتنگ بازی کے کھیل پر پابندی عائد کر دی تھی جس پر والدین اور شہریوں نے حکومت کے اقدام کو سراہا تھا مگر اب پنجاب حکومت نے صرف بسنت منانے کیلئے پتنگ بازی کی اجازت دی تھی مگر مقامی انتظامیہ کی لاپرواہی کے باعث جڑانوالہ میں پتنگ بازی کا خونی کھیل معمول بن چکا ہے عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف،کمشنر، ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اور اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی کے خونی کھیل پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔




