امریکہ کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے (اداریہ)

امریکا کا وینزویلا پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی’ صدر نکولس مادور اور ان کی اہلیہ کو غیر قانونی طور پر اپنی فوج کے ہاتھوں اغواء کرایا امریکہ کی جانب سے اس اقدام پر دنیا بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے مختلف ملکوں میں مظاہروں میں شدت آ رہی ہے صدر ٹرمپ کے خلاف عوام میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے اور امریکی جارحیت کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کو کنٹرول میں رکھنے کا جو بیان دیا اس کے خلاف بھی ردّعمل اظہار کیا جا رہا ہے امریکہ کے اندر بھی اس اقدام کی مخالفت کی جا رہی ہے ٹرمپ نے کولمبیا’ میکسیکو’ گرین لینڈ اور ایران کو بھی دھمکیاں دیں ہیں جس کے بعد مذکورہ چاروں ممالک سمیت سخت الفاظ میں جواب دیا ہے جبکہ گرین لینڈ کے معاملے پر برطانیہ اور یورپی یونین بھی ٹرمپ کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں عالمی برادری نے بھی ٹرمپ کے بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک ایسا کرنے کے قابل نہیں ہے’ ایران کو خبردار کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا اگر احتجاج کے دوران مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکہ کی جانب سے انتہائی سخت جواب دیا جائے گا چار ممالک کو دھمکیاں اور وینزویلا کے خلاف کارروائی کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں اس سلسلے میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہائوس کے باہر ہوا جہاں نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ مظاہرین نے وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں’ کے بینر بھی لہرائے اسی طرح نیویارک شہر کے ٹائمز سکوائر میں مظاہرین نے ریلی نکالی اور صدر ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا پیرس میں بائیں بازو کے مظاہرین نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی اور وینزویلا کے جھنڈے لہرائے، وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کیخلاف یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔ روم میں اٹلی کے شہریوں کا وینزویلا میں امریکی آپریشن کے خلاف احتجاج’ ارجنٹینا اور کولمبیا میں بھی امریکی حملے کے خلاف مظاہرے کئے گئے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے وینزویلا میں حالیہ کشیدگی میں اضافے’ بالخصوص امریکہ کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اپنے بیان میں سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ فریقین کو بین الاقوامی قانون’ خصوصاً اقوام متحدہ کے چارٹر کا مکمل احترام کرنا چاہیے حالیہ پیش رفت میں بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی پاسداری نہیں کی گئی’ امریکہ کی جانب سے اس غیر قانونی اقدام کی وجہ سے دنیا بھر میں مظاہروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور ممالک کے باہمی تعلقات اور ان کی ہدود کے ضمن میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے،’ امریکہ خود کو دنیا کا تھانیدار سمجھ کر جو کارروائیاں کر رہا ہے وہ صرف اسے اور اس کے عوام کو ہی غیر محفوظ نہیں بنائیں گے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کو بھی ان کے اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا یہ سلسلہ فوری طور پر رُکنا چاہیے اور اس کا آغاز اس واقعے کے خلاف ردعمل سے ہی ہونا چاہیے عالمی سطح پر اس کارروائی کی نہ صرف بھرپور مخالفت ہونی چاہیے بلکہ امریکہ کو مجبور کیا جانا چاہیے کہ وہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو واپس ان کے ملک بھیجے تاکہ یہ بین الاقوامی اصول واضح کیا جا سکے کہ کسی بھی ملک دوسرے ملک پر بلاجواز حملہ کرنے اور اسکی سالمی وخودمختاری کو نقصان پہنچانے کا حق حاصل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں