عالمی انجینئرنگ کی قیادت کیلئے پاکستانیوں کی اہم پیشرفت

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کی انجینئرنگ افرادی قوت بین الاقوامی شمولیت کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی،اس کا آغاز پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) اور چائنا انرجی انٹرنیشنل گروپ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان برانچ (سی ای ای سی) کے درمیان اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط سے ہوا۔ گوادر پرو کے مطابق پی ای سی میں رجسٹرڈ انجینئرز کی انرجی چائنا کے بڑے پیمانے کے منصوبوں میں منظم بیرونِ ملک تقرریوں پر مرکوز ہے۔ ان منصوبوں میں بجلی کی پیداوار، قابلِ تجدید توانائی، پن بجلی، ترسیلی نیٹ ورکس، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے منصوبے شامل ہیں، جو جنوب مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ میں پھیلے ہوئے ہیں۔دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انرجی چائنا کے منیجنگ ڈائریکٹر وانگ ہوئی ہوا نے کمپنی کے عالمی دائرہ کار پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس کی سرگرمیاں 147 ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں، جبکہ اس کی افرادی قوت میں تقریباً 140000 پیشہ ور شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستانی انجینئرز کو بین الاقوامی منصوبوں میں شامل کرنے، پاکستانی ٹھیکیداروں کیساتھ شراکت داری بڑھانے اور سرمایہ کاری کو کارپوریٹ سماجی ذمے داری کے اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔پی ای سی کے چیئرمین انجینئر وسیم نذیر نے اس معاہدے کو ملکی انجینئرنگ شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا2026 کو اس سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب پاکستان کے انجینئرز نے ملکی منڈیوں سے نکل کر عالمی انجینئرنگ قیادت کی جانب قدم بڑھایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں