نیو یارک ( مانیٹرنگ ڈیسک )ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ذہنی تنا سے نجات انسان کے اپنے اختیار میں ہے، بشرطیکہ طرز زندگی میں مثبت اور بروقت تبدیلیاں لائی جائیں۔آج کے دور میں ذہنی تنا روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے، تعلیم، ملازمت، کیریئر، مالی مسائل، خاندانی اختلافات اور سماجی دبا، یہ سب عوامل انسان کو ذہنی طور پر تھکا دیتے ہیں اور اس کے جسمانی و ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک ذہنی دبا میں رہنا صرف ذہنی نہیں بلکہ جسمانی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل تنا کے شکار افراد میں فالج کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق بدلتا ہوا طرزِ زندگی، نیند کی کمی اور غیر متوازن معمولات تنا کو مزید شدید بنا دیتے ہیں۔دائمی تنا انسانی دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ یاد داشت کمزور ہو جاتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں گھٹنے لگتی ہیں اور فیصلہ سازی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جبکہ بے چینی، خوف اور اضطراب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ذہنی تنا کے دوران دماغ میں ضروری نیورو ٹرانسمیٹرز کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ سیرٹونن کی کمی ڈپریشن کو جنم دیتی ہے جبکہ ڈوپامائن کی کمی مسلسل تھکاوٹ، خوشی میں کمی اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔تنا کے باعث خون کی گردش میں بھی تبدیلی آتی ہے، خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس سے دماغ کو آکسیجن اور گلوکوز کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتا مائیگرین، ذہنی دھند اور دماغی صلاحیت میں کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔نیورولوجسٹ ڈاکٹر صباحیہ چودھری کے مطابق تنا کے دوران جسم میں کورٹیسول، ایڈرینالین اور ناراڈرینالین جیسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں۔ اگرچہ معمولی تنا جسم کے لیے ضروری ہے، لیکن حد سے زیادہ تنا دل کی دھڑکن تیز کرنے، بلڈ پریشر بڑھانے اور دماغ، دل اور دیگر اعضا پر غیر معمولی دبا ڈالنے کا باعث بنتا ہے۔ذہنی دبا صرف دماغ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے جسم کو متاثر کرتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ میٹابولزم کو متاثر کرتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔کچھ افراد کا وزن تیزی سے بڑھ جانا جبکہ کچھ کا غیر معمولی طور پر کم ہو جانا ۔ خواتین میں ماہواری کے مسائل ۔ مدافعتی نظام کی کمزوری ۔ ڈپریشن اور اضطرابی امراض کا بڑھتا ہوا خطرہ اس کے علاوہ بلند فشارِ خون کے باعث خون کی شریانیں پھٹنے کا خدشہ بھی ہوتا ہے، جس سے ہیمرجک اسٹروک یا بعض اوقات خاموش اسٹروک ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تنا کی وجوہات کو پہچاننا ضروری ہے، یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری زندگی میں کون سے عوامل ہمیں ذہنی دبا میں مبتلا کر رہے ہیں۔تیز چلنا، ورزش، مراقبہ، موسیقی سننا، مطالعہ، رقص اور فطرت کے قریب وقت گزارنا ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کی تحقیق کے مطابق قدرتی ماحول میں روزانہ 20 سے 30 منٹ کی چہل قدمی کورٹیسول کی سطح کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔منفی خیالات کو ترک کر کے مثبت سوچ اپنانا، روزانہ ڈائری لکھنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا بھی تنا کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند اور متوازن غذا، جس میں پروٹین زیادہ اور چینی، نمک و کولیسٹرول کم ہو، ذہنی صحت کے لیے مفید ہے۔ہفتے میں کم از کم پانچ دن روزانہ 30 منٹ ورزش کرنے سے تنا میں واضح کمی آتی ہے۔ بار بار شدید تنا کا شکار افراد کے لیے علمی سلوک تھراپی (سی بی ٹی ) بھی ایک مثر علاج ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ذہنی تنا پر قابو پانا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہیبس ضرورت ہے شعور، نظم و ضبط اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی کی۔




