پاک چین ای مائننگ پلیٹ فارم کا باضابطہ آغاز (اداریہ)

پاکستان اور چین نے پاک چین ای مائننگ پلیٹ فارم کا باضابطہ آغاز کر دیا اور پاک چین منرل کو آپریشن فورم کے موقع پر متعدد مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے اس اقدام کا مقصد پاکستان کے معدنی شعبے میں 10 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کو ممکن بنانا ہے یہ اعلیٰ سطحی فورم چائنہ چیمبر آف کامرس ان پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد میں ہوا جس میں 800 سے زائد شرکاء نے شرکت کی جن میں 70 چینی اور 100 پاکستانی کمپنیاں’ سینئر سرکاری حکام اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز شامل تھے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون کو صرف کان کنی تک محدود رکھنے کے بجائے فل ویلیو چین کی بنیاد پر اعلیٰ اور جامع سطح تک لیجانا چاہتے ہیں جس میں معدنی وسائل کی تلاش’ پیداوار’ پروسینگ’ تجارت’ سرمایہ کاری’ تحقیق اور تربیت شامل ہو’ جناح کنونشن سنٹر میں منعقدہ تقریب کا افتتاح وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور پاکستان میں چین کے سفیر چیانگ زائی ڈونگ نے کیا۔ احسن اقبال نے پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری پر زور دیا۔ انہوں نے معدنیات کے شعبے کو پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک نیا محاذ قرار دیا جو سی پیک کے تحت ہونے والی انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی کا قدرتی تسلسل ہے چینی سفیر نے پائیدار کان کنی افرادی قوت کی تربیت اور مقامی صلاحیت سازی کیلئے چین کے عزم کا اعادہ کیا انہوں نے سینڈک کاپر’ گولڈ منصوبے کا حوالہ دیا جہاں 5.200 سے زائد پاکستانی ملازمین کو تربیت دی جا چکی ہے اور اسے ذمہ داران کان کنی اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کی بہترین مثال قرار دیا فورم کے دوران کئی اہم اعلانات کئے گئے جن میں وبانوبل’ ایم سی سی ٹی انٹرنیشنل’ جے ڈبلیو کارپوریشن پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن پاور چائنہ اور پاک چین انویسٹمنٹ کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط شامل ہیں یہ معاہدے سرمایہ کاری’ تکنیکی تعاون اور مشترکہ ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل ہیں ای مائننگ پلیٹ فارم جو اپنی نوعیت کا پہلا ڈیجیٹل اقدام ہے منصوبوں کے باہمی رابطے کو آسان بنائے گا شفافیت میں اضافہ کرے گا اور پاکستانی اداروں اور چینی کمپنیوں کے درمیان تعاون مؤثر بنائے گا،، موجودہ حکومت کی پاکستان کو معاشی استحکام پر گامزن کرنے کیلئے کوششیں برق رفتاری سے جاری ہیں اور اس حوالے سے پاکستان میں معدنی خزانوں سے استفادہ کرنے کیلئے اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں جو خوش آئند ہیں پاک چین ای مائننگ پلیٹ فارم کا باضابطہ آغاز ملکی ترقی وخوشحالی کیلئے انقلابی اقدام ہے پاک چین شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جو محض انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ پیداوار’ برآمدات’ بیروزگار اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے سی پیک 2.0 پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی کے فریم ورک اڑان پاکستان سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے جس کا مقصد 2035 تک 10 کھرب ڈالر کی معیشت کی تشکیل ہے پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت 60کھرب ڈالر ہے تاہم معدنی برآمدات اس وقت محض 2ارب ڈالر سالانہ ہیں سی پیک نے توانائی’ سڑکوں’ گوادر بندرگاہ اور قومی رابطہ کاری کے ذریعے پاکستان کے ترقیاتی منظرنامے کو یکسر بدل دیا ہے چین جیسے قابل اعتماد شراکت دار کے ساتھ ملکر پاکستان معدنی دولت کو صنعتی طاقت’ برآمدی مسابقت اور مشترکہ خوشحالی میں بدل سکتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ چین کے ساتھ مل کر پاکستان کو عالمی معاشی قوت میں تبدیل کرنے کیلئے بھرپور کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ قوم کی محرومیاں دور ہوں اور خوشحالی وترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں