چین کو برآمدات بڑھانے کیلئے کوششیں تیز

اسلام آباد (بیورو چیف)پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی چارہ (فَوڈر) برآمدی صنعت آئندہ پانچ برسوں میں سالانہ برآمدات کو ایک ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے جبکہ صنعت کے رہنماؤں کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے چین، سعودی عرب کے ساتھ، فیصلہ کن منڈی ثابت ہو سکتا ہے۔گوادر پرو کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے 9 لاکھ 30 ہزار ٹن سے زائد جانوروں کی خوراک برآمد کی جس کی مجموعی مالیت 112.2 ملین امریکی ڈالر رہی تاہم برآمد کنندگان اس وقت زیادہ تر ایک ہی منڈی پر انحصار کر رہے ہیں، جہاں متحدہ عرب امارات سب سے بڑا خریدار ملک رہا۔گوادر پرو کے مطابق پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی کا مرکز روڈس گھاس ہے جو ایک زیادہ پروٹین والی گرم خطوں میں اْگنے والی چارہ فصل ہے اور خلیجی ممالک میں دودھ دینے والے مویشیوں، اونٹوں، گھوڑوں اور دیگر جانوروں کی خوراک کے طور پر وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ صحرائی موسمی حالات اور پانی کی شدید قلت کے باعث خلیجی ریاستوں میں مقامی سطح پر چارہ کاشت کرنا محدود ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی چارے پر انحصار مسلسل بڑھ رہا ہے۔گوادر پرو کے مطابق صنعتی نمائندوں نے پاکستان کے تجارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ چین کے ساتھ حکومت سے حکومت کی سطح پر ایسے معاہدے کیے جائیں جو مصنوعات کی رجسٹریشن اور منڈی تک رسائی کے عمل کو آسان بنائیں۔ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ منظوری ملنے کی صورت میں چین کو چارہ برآمدات زمینی راستوں کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہیں، جس سے نئے تجارتی راہداری راستے کھلیں گے اور خطے میں زرعی رابطہ کاری کو فروغ ملے گا۔گوادر پرو کے مطابق اس شعبے میں توسیع کی رفتار تیز رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ تین سے چار برسوں کے دوران روڈس گھاس کے زیرِ کاشت رقبے میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور یہ رقبہ ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار ایکڑ تک پہنچ چکا ہے۔ صوبہ سندھ میں قائم بڑے زرعی فارم اب روزانہ درجنوں ٹن چارہ برآمد کے لیے تیار کر رہے ہیں۔گوادر پرو کے مطابق چونکہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں زراعت کا حصہ تقریباً 24 فیصد ہے اور ملک کی تقریباً 38 فیصد افرادی قوت اسی شعبے سے وابستہ ہے، اس لیے متعلقہ حلقوں کا خیال ہے کہ چین کی منڈی تک رسائی حاصل ہونے کی صورت میں چارہ ایک اہم غیر روایتی برآمدی شعبہ بن سکتا ہے۔گوادر پرو کے مطابق صنعتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر صرف چین ہی اپنی منڈیاں پاکستانی چارے کے لیے کھول دے تو پاکستان کی چارہ برآمدات موجودہ سطح کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ سکتی ہیں، جس سے دیہی آمدنی میں اضافہ، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور اہم تزویراتی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں