اسرائیل میں امریکی سفیر کے بیانات خطے میں امن کیلئے خطرہ قرار (اداریہ)

پاکستان سعودی سمیت 14اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے ایک مشترکہ اعلامیے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ’ مصر’ ہاشمی مملکت اردن UAE’ جمہوریہ انڈونیشیا’ جمہوریہ’ ترکیہ مملکت سعودی عرب’ ریاست قطر’ ریاست کویت’ سلطنت عمان’ مملکت بحرین’ نسانی جمہوریہ’ شامی عرب جمہوریہ اور ریاست فلسطین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ تنظیم تعاون اسلامی’ عرب لیگ اور خلیجی تعاون کونسل نے بھی دستخط کئے امریکی سفیر نے کہا تھا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں بشمول مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول قابل قبول ہو سکتا ہے اسلامی ممالک کے اعلامیہ میں امریکی سفیر کے بیان کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے وزرائے خارجہ نے اس موقف کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور خطے کے امن واستحکام کیلئے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسی سیاسی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے جس سے فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست حاصل ہو سکے، وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ ٹرمپ کا جامع منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے جبکہ دوسروں کی سرزمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینے والے امریکی سفیر کے بیانات امن کے بجائے اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں’ وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا اور فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تصادم کو مزید ہوا دے گا اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچائے گا ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت اور 4جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زر دیا دوسری جانب حماس نے امریکی سفیر کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا فلسطینی عوام قومی حقوق پر مضبوطی سے قائم رہیں گے، امریکی سفیر کے بیان سے تاریخی اور قانونی حقائق کو بدل نہیں سکتے عرب ممالک اسرائیلی قبضے کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں عالمی برادری امریکی سفیر کے اشتعال انگیز بیان کی مذمت کرے اور اسرائیل کے خلاف کھڑی ہو،” اسرائیل میں امریکی سفیر کا بیان قابل مذمت ہے اور اس پر پاکستان سمیت 14 اسلامی اور عرب ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا گیا کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے 14اسلامی ممالک اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کو اشتعال انگیز قرار دیا اور اسے مسترد کر دیا ہے اور اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، وزرائے خارجہ نے کہا کہ ایسے بیانات خطے میں امن واستحکام کیلئے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور اس کا فوری نوٹس لینا ضروری ہے وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے،، امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل اپنی عسکری قوت اور امریکی ہتھیاروں سے لیس بدمست ہاتھ بنتا جا رہا ہے جس کو سبق سکھانے کیلئے عرب ریاستوں اسلامی ممالک کو متحد ہو کر تحریک چلانی چاہیے اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تمام اسلامی ممالک کو ایک مضبوط قوت بن کر اسرائیل کا سفارتی سطح پر مقابلہ کرنا چاہیے اگر مسلم ممالک نے کمزوری دکھائی تو اسرائیل امریکہ کی شہ پر عراق’ مصر’ لیبیا کی طرح دیگر اسلامی ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے اور خطے میں امن کیلئے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں