AI پر بھروسہ خطرناک؟

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹیکنالوجی کے اس جدید دورمیں فٹ اور صحت مند رہنے کی خواہش تیزی سے مصنوعی ذہانت اے آئی کا سہارا لینے کی جانب راغب کررہی ہے ، اب موبائل پر صرف چند کلکس کے ذریعے کم کیلوریز والی ڈائٹ، ورزش کے منصوبے اور وزن کم کرنے کے مشورے حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اے آئی واقعی ہر انسان کے جسم، عادات اور صحت کی مکمل اور درست سمجھ رکھتا ہے؟مصروف طرز زندگی کی وجہ سے اب لوگ زیادہ تر کسی جادوئی حل کی تلاش میں اپنی صحت کی ذمہ داری مشینوں کے سپرد کررہے ہیں، اے آئی آپ کو چند سیکنڈ میں ایک مکمل ڈائٹ پلان تو دے سکتا ہے لیکن مشین آخر مشین ہوتی ہے جو آپ کے مسئلے کو تو سمجھ سکتی ہے لیکن یہ آپ کے موڈ آپ کی اپنی پسندیدہ غذا اور ذہنی کیفیت سے آگاہ نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کا تعلق صرف کیلوریز کم کرنے تک نہیں ہے بلکہ اس کے لیے جسم اور ذہن کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بھی لازمی ہے،اگر ہم اےآئی کے سخت اور متعین کردہ اصولوں کے مطابق چلنا شروع کردیتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے ذہنی سکون اور آسانی کو کھونے کے لیے تیار رہنا ہوگا، کیونکہ انسانی مشین یہ کبھی نہیں جان سکتی کہ آج آپ کا آرام کرنے کا موڈ ہے یا آپ کا گھر کا کھانا کھانے کا دل چاہ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اے آئی پر مبنی ہیلتھ اور فٹنس ایپس عمر، وزن، قد، روزمرہ سرگرمیوں، نیند اور کھانے کی عادات جیسی معلومات کا تجزیہ کرکے ذاتی نوعیت کی ڈائٹ اور ورزش کے منصوبے تجویز کرتی ہیں،اگر ان ٹولز کو سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو یہ لوگوں میں صحت کے بارے میں شعور پیدا کرنے، مستقل مزاجی برقرار رکھنے اور اپنی پیش رفت کو مانیٹر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔تاہم، ڈاکٹرز خبردار کرتے ہیں کہ اے آئی کو مکمل طور پر ڈاکٹر کا متبادل سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے، ہر فرد کی طبی تاریخ، ہارمونز کی حالت اور جسمانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، جنہیں اے آئی ہمیشہ درست طریقے سے نہیں سمجھ سکتا۔ خاص طور پر تھائیرائیڈ، پی سی او ایس، ذیابیطس، ہارمونل مسائل یا دل کی بیماریوں میں ڈاکٹر کی نگرانی بے حد ضروری ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں