مشرق وسطی کشیدگی، بھارتی معیشت پر منفی اثرات کا خدشہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ بعض تجزیہ کار حکومتی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔امریکی جریدے دی نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خلیجی خطے میں کسی بھی طویل مدتی تنازع سے بھارت کے مالی وسائل پر شدید دبا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں پہلے ہی گھریلو گیس کی قلت صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطی کی صورتحال کے باعث بھارتی برآمدات اور خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر بھی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ جریدے کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں تقریبا 10 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔دوسری جانب عالمی سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساکس نے بھی اپنی تجزیاتی رپورٹ میں عندیہ دیا ہے کہ آئندہ سال بھارت کو مہنگائی میں اضافے اور کرنسی پر دبا جیسے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطی میں کشیدگی طویل ہوئی تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا کی معیشتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں