بحری ٹریفک میں95فیصد کمی

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) آبنائے ہرمز میں عالمی تجارت مفلوج’ بحری ٹریفک میں95فیصد کمی ، مشرق وسطی جنگ کے اثرات،20ہزار بحری اہلکار خطرے میں، درجنوں جہازوں پر حملے اور جانی نقصانات۔ تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بارے میں اہم حقائق اور اعداد و شمار یہاں پیش ہیں، جو مشرق وسطی کی جنگ کی وجہ سے تقریبا مفلوج ہو کر رہ جانے والی ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ عام حالات میں، عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریبا پانچواں حصہ اسی آبی راستے سے گزرتا ہے۔ جنگ کا آغاز 28 فروری کو ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بمباری شروع کی، جس کے جواب میں تہران نے پورے خطے میں جوابی حملے کیے اور آبنائے ہرمز تک رسائی کو سختی سے محدود کر دیا۔ حالیہ مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ گزرنے والے جہازوں نے بنیادی طور پر ایرانی ساحل کے بالکل قریب واقع جزیرہ لارک کے گرد وہ راستہ استعمال کیا ہے جو بظاہر ایران کی جانب سے منظور شدہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں